روحانیت کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۱۹
جانتا ہے اور دوسرا وہ جو عام طور پر تصوف کے نام سے جانا جاتا ہے۔
تصوف کی بہت سی شاخیں اور بہت سی شکلیں ہیں۔ اس اختلاف و تنوع کو کسی واحد اصول کی صورت میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم تصوف اپنے آخری تجزیہ میں جس چیز کا نام ہے وہ بنیادی طور پر دو ہیں ــــ ایک ، شیخ طریقت ، دوسرے اور ادو وظائف یہ دونوں چیزیں مکمل طور پر بدعت ہیں۔ کیوں کہ ان میں سے کوئی چیز بھی رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں پائی نہیں جاتی تھی۔
روحانی ترقی کے لئے شیخ کو ذریعہ بنانا یقینی طور پر کہنوت (گرو ڈوم) کو اسلام میں داخل کرنا ہے ۔ جب کہ کہنوت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام تو اس لئے آیا ہے کہ وہ کہنوٹ کی نفی کرے ۔ قدیم زمانہ میں تمام مذاہب نے خدا اور بندے کے درمیان مذہبی پیشواؤں کو بطور واسطہ بٹھا رکھا تھا ۔ اسلام نے اس درمیانی واسطہ کو ختم کیا اور اعلان کیا کہ انسان اور خدا کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہوتا ہے۔ اس کے لئے کسی واسطہ کی ضرورت نہیں۔ مگر اسلام کے ظہور کے تین سو سال بعد سابقہ جاہلی تصور کو مقدس بنا کر اسلام میں داخل کر دیا گیا ۔ اس قسم کا کوئی تصور روحانی ترقی میں رکاوٹ ہے نہ کہ مددگار ۔
اسی طرح اور ادو وظائف کا وہ سارا سلسلہ بدعت ہے جس کو صوفیاء نے بعد کے زمانہ میں اختیار کیا۔ جو طریقہ پیغمبر خدا نے نہ سکھایا ہو وہ کبھی معرفت الہی کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہر نیا طریقہ معرفت الہی میں رکاوٹ تو بن سکتا ہے مگر وہ اس کے لئے زینہ کا کام نہیں دے سکتا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اور ادو وظائف کے مروجہ طریقے سنت رسول سے ثابت نہیں۔
مزید یہ کہ یہ تمام اور ادو وظائف جسمانی عمل ہیں اور جسمانی ورزش کبھی روحانی ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ جسمانی عمل جسم کے اندر کوئی صفت پیدا کر سکتا ہے۔ مگر جسمانی عمل سے روحانی صفت پیدا ہونا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔
اسلامی نقطہ نظر سے انسان کے وجود کی دو حیثیتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ انسان کا ایک ظاہری جسم ہے جو مختلف قسم کی مادی ضرورتیں رکھتا ہے ۔ ان مادی چیزوں کی فراہمی کے بغیر مادی جسم کا بقاء ممکن نہیں۔ مثلاً کھانا، پانی، کپڑا، مکان وغیرہ۔ انسانی شخصیت کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues