Al-Risala · July 1995 · page 21

سفر نامہ امریکہ - ۳

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱

سفر نامہ امریکہ - ۳

۲۸ دسمبر کو نمازِ عشاء کے بعد اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ یہاں میری تقریر ہوئی۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوا۔ میں نے کہا کہ اس ملک میں جو مسلمان آباد ہیں وہ اکثر مسائل کا ذکر کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس دنیا میں ہمیشہ مسائل رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ آپ امریکہ چھوڑ کر مکہ مدینہ چلے جائیں تو وہاں بھی آپ دیکھیں گے کہ مسائل موجود ہیں۔ اس لئے اصل مسئلہ کا ہونا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کا سامنا کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہ ہو۔ آپ کو چاہئے کہ مسئلہ کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے اس کے بارہ میں سوچیں اور اپنے جوابی عمل کا نقشہ بنائیں۔ آرنج کاؤنٹی رجسٹر (۳۰ دسمبر) میں رائٹر کے حوالے سے ایک خبر تھی۔ اس نے سر خیل (افغانستان) سے یہ رپورٹ بھیجی تھی کہ تغب وادی میں حریف افغانی گروہوں کے درمیان سخت لڑائیاں (fierce battles) جاری ہیں۔ یہ علاقہ کابل کے مشرق میں واقع ہے۔ ان لڑائیوں کے نتیجہ میں دس ہزار سے زیادہ افغانی اپنے وطن کو چھوڑ کر بھاگے ہیں۔ ریڈ کراس نے ان کے قیام کا انتظام عارضی کیمپوں میں کیا ہے۔ یہ لڑائی دو مہینہ سے جاری ہے۔ اس خبر کی سرخی یہ تھی: 10,000 flee fierce Afghan factional strife. سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد افغانی اس طرح کیوں آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑائی ہی ان کا طریقِ زندگی ہے۔ گن کلچر کے سوا کسی اور کلچر کو وہ جانتے ہی نہیں۔ افغانیوں کی اصل ضرورت ہتھیاروں کی سپلائی نہیں ہے۔ ان کی اصل ضرورت یہ ہے کہ ان کو تعمیری سوچ دی جائے ۔ ان کو تعلیم کی طرف موڑ آجائے۔ ان کو بتایا جائے کہ عزت اور ترقی کار از گولی میں نہیں ہے بلکہ علم میں ہے۔

ایک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ دور اول کے مسلمانوں کے لئے ہر طرف کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ آج وہ شکایت کرتے ہیں کہ ہر طرف کے دروازے ان کے لئے بند ہیں۔ پہلے ہر جگہ ان کو حمایت مل رہی تھی، آج ہر جگہ ان کو مخالفت سے سابقہ پیش آرہا ہے۔ اس کی وجہ دونوں زمانوں کے مسلمانوں کا ذہنی فرق ہے۔ دور اول کے مسلمان دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہتے تھے کہ ہر انسان مشنری پر ہے۔ آج کے مسلمانوں کا ذہن اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page