The Story of America, by John A. Garraty.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۲۷
Incompetent Muslim leaders of India turned Hindus into a frenzied mob and they demolished the Babari Masjid at Ayodhya on December سان فرانسسکو سے ڈاکٹر منظور غوری نے ٹیلی فون کیا اور اپنے یہاں آنے کی دعوت دی۔ اس کے مطابق ۳۱ دسمبر کو ایک ملکی سفر ہوا۔ صبح کو جناب یونس سمجی کے ساتھ گارڈن گروو سے ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ یونس سمجی صاحب گجراتی ہیں۔ حسب عادت راستہ میں ان سے سوال کر کے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ ہر آدمی سے اس کے میدان کی بات کرتا ہوں۔ اور اس طرح معلومات میں اضافہ کرتا ہوں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ گجرات میں دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ دینداری ہے۔ انھوں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی وجہ یہ بتائی کہ گجراتی لوگ علماء کرام سے بہت زیادہ عقیدت اور تعلق رکھتے ہیں۔ ہم لوگوں کو بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ علماء کرام وارث انبیاء ہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ گجراتیوں کے جو ادارے ہیں، ان میں آپس میں جھگڑا بہت کم ہوتا ہے۔ مقابلۂ ان میں زیادہ اتحاد پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں بھی گجراتیوں کا مزاج ہی اس کا سبب ہے۔ گجراتیوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ ادارہ میں ۵۰۰ روپیہ دے کر الگ ہو جائے گا۔ مگر وہ پانچ پیسہ خود اس سے لینے کی کوشش نہیں کرے گا۔
اس طرح بات کرتے ہوئے مقامی ایئر پورٹ پہنچا۔ یہ ایئر پورٹ چھوٹا مگر نہایت منظم تھا۔ امریکن ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۱۲ کے ذریعہ سین جوزے کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ ایک گھنٹہ کی پرواز تھی۔ جہاز کے اندر امریکن ایئر لائنز کا میگزین (American Way) دیکھا۔ اس میں ایک امریکی سائنس داں (Hans Christian Von Baeyer) کی کتاب (The Fermi Solution) کا ایک باب نقل کیا گیا تھا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کا تقریباً ۹۰ فیصد حصہ ناقابل مشاہدہ مادہ (invisible material) پر مشتمل ہے۔ اس کو عام طور پر تاریک مادہ (dark matter) کہا جاتا ہے۔ اس کو براہ راست دیکھا نہیں جاسکتا۔ البتہ اس کو بالواسطہ دیکھنے کا ایک طریقہ موجود ہے : but there is an indirect way of detecting it. یہ بالواسطہ طریقہ یہ ہے کہ ان ناقابل مشاہدہ اجرام سماوی کا رنگ اسپکٹرم پر بدلتا ہوا دکھائی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues