Al-Risala · January 1995 · page 35

A journey to hell and back again

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۵

قاہرہ میں عرب نوجوانوں کا ایک بڑا حلقہ بن گیا ہے جو الرسالہ کے مشن سے گہری شیفتگی رکھتا ہے اور اس کے لئے عملاً کوشاں ہے۔ ان کی مختلف سرگرمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ انھوں نے الرسالۃ للاعلام الدولى (مدینة نصر، قاہرہ) کے نام سے ادارہ قائم کیا ہے۔ وہ مستقل طور پر الرسالہ مطبوعات کو عربی میں منتقل کرنے اور اس کو چھاپنے کا انتظام کر رہا ہے۔ (ٹیلی فون : ۲۶۲۳۱۰۵، ۲۶۲۸۳۹۹، ۲۶۲۲۳۰)

انھوں نے دین کامل کو الدین الکامل کے نام سے ۴۰ صفحات پر شائع کیا ہے۔ اسی طرح وہ تقریباً ۲۰ کتابیں چھپوا چکے ہیں اور کئی کتابیں اس وقت زیر تیاری ہیں۔ پمفلٹ کی صورت میں وہ مستقل کتابچے تیار کر کے چھاپ رہے ہیں جن کی تعداد پندرہ تک پہنچ چکی ہے۔ قاہرہ کے ایک ادارہ دار الصحوة للنشر والتوزيع (ٹیلی فون: ۷۴۰۰۳۷، ۹۸۷۹۲۳۰) نے اسلامی مرکز کی مختلف کتابوں کے عربی ترجمے شائع کئے ہیں۔ ۱۹۹۲ میں انھوں نے "خلیج ڈائری" کا عربی ترجمہ (مع اضافہ) شائع کیا ہے جو ۱۲۸ صفحہ پر مشتمل ہے۔ اس کا نام یومیات حرب الخلیج ہے۔ اور اس کا سب ٹائٹل ہے: ليس التاريخ مجرد قصة لاحداث مضت بل التاريخ سجل حافل بالعبر والدروس للحاضر والمستقبل۔

ایک مجلس میں ایک صاحب نے اس حدیث کا تذکرہ کیا کہ من حق ازاره خیلاء... میں نے اس کے جواب میں کہا کہ اس حدیث میں کلیدی لفظ خیلاء ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل بری چیز کبر ہے۔ اگر آپ اپنی ازار اوپر باندھیں مگر دوسری چیزوں کی بنیاد پر کبر کی نفسیات آپ کے اندر پائی جائے تو گویا کہ ظاہری صورت نہ ہونے کے باوجود اصل حقیقت آپ کے اندر موجود ہے۔ اس پر حاضرین میں سے ایک عرب نے کہا کہ آج اگر اس بات کو کہنا ہو تو شاید اس طرح کہنا زیادہ با معنی ہوگا کہ : من اشترى سيارة مرسيدس خیلاء فهو... ۲۹ ستمبر کو عصر کی نماز قاہرہ کی مسجد الامین (شارع اسماعیل صبری پاشا) میں پڑھی۔ یہ ایک چھوٹی مگر صاف ستھری مسجد تھی ۔ اس کے ایک گوشہ کو منبر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ مسجد کے اندر دو الماری میں مجلد عربی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ علم العقائد وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page