Al-Risala · July 1995 · page 31

The Story of America, by John A. Garraty.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۱

مذکورہ مسلم تھنک ٹینک نے اپنا یہ نقشہ عمل مغربی قوموں کا مطالعہ کرکے انھیں کے نمونہ پر تیار کیا ہے۔ مگر موجودہ حالات میں یہ نہ صرف ناممکن ہے، بلکہ وہ مسلم مسائل کا حل بھی نہیں۔ مسلمانوں کے لئے صرف دو نکاتی پرو گرام یہ ہے کہ داخلی اعتبار سے تعلیم اور خارجی اعتبار سے دعوت۔ یہ پروگرام پوری طرح قابل عمل ہے اور وہی سنت رسول کے مطابق ہے۔ پروگرام کسی خیالی نقشہ کا نام نہیں۔ حقیقی پروگرام وہ ہے جس کو زیر عمل لانا فوری طور پر ممکن ہو اور نتائج کے اعتبار سے وہ دور رس ثابت ہونے والا ہو۔

واپسی میں جہاز کے اندر امریکن ایئر لائنز کا میگزین امریکن وے (یکم جنوری ۱۹۹۴ء پڑھا۔ اس میں مضامین کم اور اشتہارات زیادہ تھے۔ امریکہ میں گفت و شنید (negotiating programs) کو ایک مستقل فن کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ بڑے بڑے ادارے صرف اس کام کے لئے قائم ہیں اور فروزوند لوگ بڑی بڑی قیمت دے کر ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

اسی قسم کی ایک بڑی امریکی کمپنی کا اشتہار میگزین میں چھپا ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ گفت و شنید آپ کا سب سے زیادہ طاقت ور تجارتی آلہ (business tool) ہے۔ مؤثر بات چیت (effective negotiating) کی تفصیلات دیتے ہوئے اس میں درج تھا کہ :

In business, you don't get what you deserve, you get what you negotiate. اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ یہی معاملہ زندگی کا بھی ہے۔ ایک آدمی امکانی طور پر ایک چیز کا مستحق ہو سکتا ہے۔ مگر امکانی استحقاق کو واقعہ بنانے کے لئے اپنی قوت کلام کو پرامن طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کلام کی صورت میں آدمی کو بہت بڑی طاقت دیدی ہے۔ مگر نادان آدمی معنوی حقیقتوں سے بے خبر ہونے کی بنا پر گولی کو سب سے بڑی چیز سمجھ لیتا ہے۔

بے ایریا سے واپس ہو کر دوبارہ میں آرینج کاؤنٹی آگیا۔ یہاں روزنامہ آرنج کاؤنٹی رجسٹر یکم جنوری ۱۹۹۴ء میں ایڈورڈ گارگن (Edward A. Gargan) کے قلم سے ایک رپورٹ چھپی تھی اس کا عنوان تھا :

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page