The Story of America, by John A. Garraty.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۲
In India, good dowry is key to a decent marriage. اس میں بتایا گیا تھا کہ مہاتما گاندھی نے آزادی سے پہلے جہیز کی رسم کی سخت مذمت کی تھی۔ انھوں نے لکھا تھا کہ جو آدمی جہیز طلب کرے اس کو برادری سے خارج کر دیا جانا چاہئے۔ اس کے بعد جب ہندوستان آزاد ہوا تو نئی ہندوستانی گورنمنٹ نے ممانعت جہیز کا قانون پاس کیا۔ لیکن آج بھی اضافہ کے ساتھ جہیز کا مذموم طریقہ رائج ہے۔ (Dowry Prohibition Act) امیر اور غریب، منسٹر اور کلرک ، قانون داں اور انجینئر تک ہر ایک اس رسم میں مبتلا ہے۔ یہاں ایک صاحب نے بڑے جوش سے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہندوستان میں آپ لوگوں کو مسلم قانون دانوں کا ایک بورڈ بنانا چاہئے جس کا کام لیگل فائٹنگ ہو۔ وہ مسلمانوں کے خلاف قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے اور مسلم موافق قوانین پارلیمنٹ سے بنوائے۔ میں نے ان کو مذکورہ اخباری رپورٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ جہیز کو مہاتما گاندھی نے کنڈم کیا۔ تمام اخباروں نے اس کے خلاف آرٹیکل شائع کئے ۔ اور اس کے خلاف باقاعدہ ایک قانون بھی بنا دیا گیا۔ اس کے باوجود ہندوستانی سماج سے ایک فیصد بھی جہیز ختم نہ ہوسکا۔ پھر آپ کس بنا پر یقین کرتے ہیں کہ قانونی دفعات کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کا تحفظ ہو جائے گا۔
کیلی فورنیا سے نکلنے والے مسلم میگزین (Our Times) کے شمارہ یکم ستمبر ۱۹۹۳ میں سابق مرکزی وزیر مسٹر اندر کمار گجرال کا ایک انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں مسٹر گجرال کے اس قول کو سرخی بنایا گیا تھا کہ انڈیا دنیا میں دوسرا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے:
India is the 2nd largest Islamic country in the world. اس کو پڑھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم کی قیادت کی حماقت کے باوجود انڈیا میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ہمارے لئے ایک عظیم امکان تھا۔ مگر بدقسمتی سے تقسیم کے بعد دوبارہ نااہل مسلم قائدین کی فوج اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے امکانات کو استعمال کرنے کے بجائے مسلمانوں کو صرف مسائل میں الجھا دیا۔ اگر یہ دوسری نادانی نہ کی گئی ہوتی تو اب تک انڈیا کے مسلمان عالمی نقشہ پر نمبر ایک ملک کی حیثیت حاصل کر چکے ہوتے۔ مگر قائدین کی ناقابل بیان حماقتوں کے نتیجہ میں انڈیا کے مسلمان صرف ایک غیر اہم اقلیت بن کر رہ گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues