Al-Risala · July 1995 · page 38

The Story of America, by John A. Garraty.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۸

یہی معاملہ پوری ملت کا ہے۔ لوگ جو کچھ چاہتے ہیں، اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے وہ تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مطلوب چیز بھی ان کو نہیں ملتی۔ مثلاً ہر آدمی اتحاد کی بات کرتا ہے مگر وہ اختلاف اور شکایت کو نظر انداز کرنے کے لئے تیار نہیں، حالاں کہ یہی اتحاد کی واحد قیمت ہے۔ لوگ دعوت کی بات کرتے ہیں، مگر وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں پر صبر کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حالاں کہ مدعو کی زیادتیوں پر صبر کے بغیر دعوت کا عمل ممکن ہی نہیں۔ لوگ ملت کی تعلیم و ترقی کی بات کرتے ہیں مگر وہ نزاعات کو اوائڈ کرنے کے لئے تیار نہیں، حالاں کہ تعلیم و ترقی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نزاعات کو ہر حال میں اوائڈ کیا جائے۔ ۳ جنوری کو میں جناب صغیر اسلم صاحب کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں فیکس پر ایک خط آیا۔ یہ خط لیز برگ (Leesburg) سے آیا تھا جو امریکہ کے ایسٹ کوسٹ میں واقع ہے ۔ اس پر مسز انڈا ڈی ہایوز (Inda de Hoyos) کا دستخط تھا۔ انھوں نے دعوت دی تھی کہ میں امریکہ سے رخصت ہونے سے پہلے ان کے ادارہ میں آؤں۔ تاہم وقت کم ہونے کی وجہ سے میں سفر کا پروگرام نہ بنا سکا ۔ (4771-882-03 Tel)

مذکورہ خاتون ایک امریکی ادارہ کے ایشیائی شعبہ کی صدر ہیں۔ اس ادارہ کا نظریہ یہ ہے کہ اضافہ آبادی کے بارہ میں مالتھس کا نظریہ غلط تھا۔ زمین میں زندگی کے ذرائع اتنے زیادہ ہیں کہ ہمیں مصنوعی طور پر آبادی پر کنٹرول کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف وسائل ارض کو درست طور پر منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے راقم الحروف کی کتاب عظمت قرآن (صفحہ ۲۳-۲۴) کا انگریزی ترجمہ پڑھا۔ وہ ان کو بہت پسند آیا۔ چنانچہ ان کا خیال تھا کہ میں ان کے ادارہ میں آؤں اور وہاں اس موضوع پر مزید لیکچر دوں۔ مگر ان کا پیغام مجھے دیر سے ملا اس لئے میں وہاں کا پروگرام نہ بنا سکا :

Inda de Hoyos, 62 Sycolin Road, Leesburg, Va 22075 Tel. 703-777-9451, 03-882-4771. Fax 703-771-9492 ۳ جنوری کی شام کو اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں نماز عشاء کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر میں نے کچھ احادیث کی روشنی میں دین کی تفہیم کی۔ ان حدیثوں کا تعلق دین کی اسپرٹ سے تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page