A journey to hell and back again
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۶
وقت ہوا تو امام مصلے پر کھڑا ہو گیا۔ اس نے اقامت کہی، اس کے بعد خود ہی نماز پڑھائی۔ نمازیوں کی تعداد ایک صف سے زیادہ نہ تھی۔ نماز پوری کرنے کے بعد امام نے اپنے دائیں طرف چہرہ کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ کہا اور بائیں طرف السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کے بغیر لوگ اٹھ کر چلے گئے۔
برصغیر ہند میں فقہی اختلاف نے ملت کو مختلف طبقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ عالم عرب میں یہ چیزیں موجود نہیں، البتہ ایک اور چیز مزید شدت کے ساتھ موجود ہے، اور وہ سیاسی اختلاف ہے۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے کچھ مسلم لیڈروں کا ذکر کیا جنھوں اپنے غلط عمل کے ذریعہ ملت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ مگر مسلمانوں کے درمیان اب بھی ان کو بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ مسلمان ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے مفسدین کو عظمت کا درجہ دیتے ہیں (امۃ تُعظم مفسدیھا)
میں نے کہا کہ یہ غالباً پریس اور ریڈیو اور ٹیلیویژن کے دور کا مظاہر ہ ہے۔ اس قسم کے رہنما بڑے بڑے الفاظ بولتے ہیں۔ وہ مظاہراتی قسم کے اقدامات کرتے ہیں۔ اس بنا پر وہ نیوز میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں نمایاں کئے جاتے ہیں۔ اس طرح انھیں اپنی غلط فکری یا غلط کاری کے با وجود شہرت حاصل ہو جاتی ہے۔ اور جن لوگوں کو ایک بار شہرت حاصل ہو جائے وہ لوگوں کے درمیان ہمیشہ عظمت کا مقام حاصل کر لیتے ہیں۔
یہاں اخوانی فکر کے ایک عرب عالم سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اس زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ فصل الدین عن الدولۃ کا مغربی نظریہ ہے۔ یہ دشمنان اسلام کی سازش ہے۔ اس طرح وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو بالکل بے جان کر کے چھوڑ دیں۔ اور دین کی پشت پر سیاسی طاقت کا زور باقی نہ رہے۔ میں ان کی تقریر سنتا رہا۔ پھر میں نے کہا: الفصل بین الدین والدولۃ كعقيدة، فلا - اما الفصل بين الدين والدولۃ كمنهج فنعم ۔
میں نے کہا کہ قرآن وسنت میں بلاشبہ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکام ہیں۔ لیکن اگر دعوت اسلامی کا مطلب یہ ہو کہ اول روز سے پورے دین کو ایک مکمل ریاستی نظام کی حیثیت سے قائم کرنے کی جد وجہد کی جائے تو یہ ایک ایسی تکلیف ہے جس کا مکلف انبیاء کو بھی (بشمول پیغمبر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues