The Story of America, by John A. Garraty.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹
۴ جنوری کی شام کو جناب جاوید نواز صاحب کے مکان پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں کچھ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ یہاں میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ کی تقریر کی۔ اس میں بتایا کہ ہمیشہ مسائل کے ساتھ مواقع موجود رہتے ہیں اور آج بھی ہیں۔ ہم کو چاہئے کہ مسائل کو نظر انداز کریں اور مواقع کو استعمال کریں۔
آخر میں سوال و جواب ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ امریکہ میں مسلم نسلوں کے (assimilation) کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ چھ ملین مسلمانوں کے درمیان یہاں چھوٹی بڑی ڈیڑھ ہزار مسجدیں ہیں۔ ان مسجدوں میں خاص طور پر جمعہ کے دن معقول تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اجتماع عبادت سے زیادہ سوشلائزنگ کے لئے ہوتا ہے۔ ترکی اور سوویت یونین میں مسلمانوں نے اپنا تشخص نہیں کھویا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں چیلنج تھا۔ چیلنج ہمیشہ مقاومت (resistance) پیدا کرتا ہے اور وہ زندگی کی ضمانت بن جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ چیلنج نہیں اس لئے یہاں مسلمانوں کے لئے جذب ہو جانے کا خطرہ نظر آتا ہے۔
تاہم ایک پرامید علامت یہ ہے کہ خبروں کے مطابق، امریکی حکومت اسلام کو مغربی تہذیب کے دشمن کے طور پر پرو جیکٹ کر رہی ہے۔ اگر فی الواقع یہ امریکی ایڈ منسٹریشن کا سوچا سمجھا فیصلہ ہو تو یہ چیز مسلمانوں کی بقاء کی ضامن بن جائے گی۔ کیوں کہ اس کے بعد یہاں بھی چیلنج اور اس کے جواب میں مقاومت کا ماحول بن جائے گا جو اسلامی تشخص کے بقاء کی ضمانت ہوگا۔ ہندستان کے جو مسلمان امریکہ میں آباد ہیں انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے نام پر بہت سی چھوٹی بڑی تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں۔ تنظیمی اعتبار سے یہ سب الگ الگ ہیں۔ مگر طرز فکر کے اعتبار سے سب کی سب یکساں ہیں۔ ہر گروہ ہندستانی مسلمانوں کا تعارف مظلوم فرقہ (oppressed community) کی حیثیت سے کراتا ہے اور ہندوؤں کا تعارف جنگجو ہندو (Hindu militants) کی حیثیت سے۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندستان بھی ویسا ہی ایک ملک ہے جیسا کہ امریکہ۔ ہندستان میں نہ مسلمان مظلوم ہے اور نہ ہندو ظالم۔ جو بگاڑ وہاں آپ دیکھتے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues