Al-Risala · July 1995 · page 47

Drunk driving : a license to kill

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۵، صفحہ ۴۷

خبر نامہ اسلامی مرکز ۹۲

ٹائمز آف انڈیا کے نمائندہ مسٹر سجاد حسن نے ۱۷ فروری ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ مسلمان ملک کی مین اسٹریم سے الگ کیوں ہیں۔ کہا گیا کہ یہ بات صرف جزئی طور پر درست ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں مسلمان ہر جگہ برادر وطن کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وہ مین اسٹریم سے کلی معنوں میں الگ ہو ہی نہیں سکتے۔ البتہ مسلمانوں کے اخباری لیڈر اپنے بے بنیاد بیانات کے ذریعہ غلط طور پر یہ تاثر دیتے ہیں کہ مسلمان دوسروں سے بالکل الگ ہیں۔

۲| الرسالہ مشن شروع سے اس پر زور دیتا ہے کہ مسلمان سیاست کے بجائے تعلیم کے میدان میں اپنی کوشش صرف کریں۔ اس سلسلہ میں خدا کے فضل سے کئی جگہ ہمارے ساتھی قابل قدر کام کر رہے ہیں۔ انھیں میں سے ایک جموں کا علاقہ ہے۔ جموں میں جناب فاروق مضطر صاحب، جناب خورشید بمل صاحب، مولانا لال الدین صاحب و غیرہ تعلیم کے میدان میں نہایت مفید کام کر رہے ہیں۔ اسی انداز پر ہر جگہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ہفت روزہ نئی دنیا کے نمائندہ مسٹر جمال فہمی نے ۱۹ فروری ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر مسجد کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسجد باجماعت نماز کا مرکز ہے۔ یہ باجماعت نماز ایک عالم کی امامت میں ادا کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد اس بات کی تربیت ہے کہ مسلمان علماء دین کی سربراہی کے تحت متحد ہو کر زندگی گزاریں ۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۴ فروری ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا موضوع تھا روزہ اور جمعہ کی اہمیت۔

فرانس کی ایک خاتون اسکالر امیلی بلوم (Ms Amelie Blom) ۲۴ فروری ۱۹۹۵ء کو اسلامی مرکز میں آئیں اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ وہ پیرس کے ادارہ سنٹر آف انٹرنیشنل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے تحت پی ایچ ڈی کا مقالہ تیار کر رہی ہیں۔ ان کی ریسرچ کا تعلق اس مسئلے سے تھا کہ سلمان رشدی کی کتاب بینگ ورسز کاری ایکشن انڈیا اور برطانیہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1995 All issues

Printed page