A journey to hell and back again
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۷
اسلام، نہیں کیا گیا۔ پھر ہم کو اس کا مکلف کیونکر بنایا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ فہرست احکام کے اعتبار سے مکلف نہیں ہوتا بلکہ اپنے وسیع کے اعتبار سے مکلف ہوتا ہے۔ (لا يكلف الله نفساً الاوسعها)
الاہرام قاہرہ کا مشہور اخبار ہے۔ یہ نام ان قدیم عمارتوں کے نام پر ہے جن کو اہرام مصر کہا جاتا ہے اور جو سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ نجیب حداد نے لکھا ہے کہ مصر میں دو اہرام ہیں۔ ایک وہ جس کو دیکھنے کے لئے لوگ چل کر اس کے پاس آتے ہیں۔ دوسرا اہرام وہ چل کر دوسروں کے پاس جاتا ہے۔
الاہرام کا شمارہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۲ دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک خبر کا عنوان تھا: احجار الاهرامات وابي الهول: هل جاءت من الكوكب الاحمر (اہرام اور ابو الہول کے پتھر کیا مریخ سے لائے گئے تھے، امریکہ کے ادارہ ناسا نے مصنوعی سیاروں کے ذریعہ مریخ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کی ہیں۔ ان کی بنیاد پر قیاس کر کے یہ خبر بنائی گئی تھی۔ مگر اس قسم کی خبریں محض تفنن کے لئے ہوتی ہیں۔ خالص علمی اعتبار سے ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ روز نامہ الاخبار (۲۸ ستمبر) میں ایران کے بارے میں ایک مضمون تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ایران کا کہنا ہے کہ جزیرہ ابوموسی کے مسئلہ کا حل صرف فوجی طاقت کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو شکایت نہیں ہونا چاہئے اگر عرب بھی تسلیح کا طریقہ اختیار کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مغربی ممالک بیک وقت دونوں کی مدد کریں گے۔ کیوں کہ یہ ثابت ہو چکا ہے شیطان اکبر عراق اور ایران دونوں کو ان کی اس جنگ کے دوران مسلح کر رہا تھا جس کو انور سادات نے احمقانہ جنگ قرار دیا تھا (فقد ثبت ان الشيطان الاكبر كان يسلح العراق وايران معا خلال حربھما الغبية كما وصفها السادات)
ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے گفتگو کے دوران کہا کہ مصر کا شاہی دور ( العصر الملکی) موجودہ دور کے مقابلہ میں بہت اچھا تھا۔ اس زمانہ کے حالات میں مصر میں بڑے بڑے اہل علم اور اہل ادب اٹھے۔ اس زمانہ میں مصر علمی اور مادی ترقی پر تھا۔ حتیٰ کہ اسلامی ترقی بھی اس وقت آج سے زیادہ تھی۔ آج مصر ہر لحاظ سے پہلے کے مقابلہ میں کم نظر آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues