Al-Risala · January 1995 · page 38

A journey to hell and back again

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۸

مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصر کے شاہی دور کو کس نے ختم کیا۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ شاہی دور اس طرح ختم ہوا کہ حسن البنا نے اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعہ لوگوں کو اس کے خلاف اکسایا۔ اس کے بعد اسی بنیاد پر جوشیلے نوجوانوں کی ایک جماعت بنی۔ اس حلقہ نے فوجی افسروں کے ساتھ مل کر مصر کے شاہ فاروق کے خلاف وہ منصوبہ بنایا جس کو آجکل کی زبان میں سازش کہا جاتا ہے۔ اس طرح الاخوان المسلمون اور فوجی افسروں نے مشترکہ کوشش سے شاہ فاروق کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور اس کو اور اس کے خاندان کو مصر سے باہر نکال دیا۔ اس کے بعد مصر میں سخت ناگفتہ بہ حالات پیدا ہو گئے۔ اگر اخوانی لیڈر اس کو جانتے تھے تو ان کی سنجیدگی مشتبہ ہوتی ہے، اور اگر وہ اس کو نہیں جانتے تھے تو ان کی قائدانہ صلاحیت مشتبہ ہوتی ہے۔ اب یہ اخوان کے معتقدین کے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کس توجیہہ کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔

شیخ محمد عبدہ (۱۹۰۵ - ۱۸۴۹) مصر کے مشہور عالم اور مصلح تھے۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے ان کے تذکرہ کے ذیل میں بتایا کہ محمد عبدہ نے ابتدا میں سید جمال الدین افغانی کے ساتھ سیاسی کام کیا۔ مگر آخر میں وہ اس سے مایوس ہو گئے۔ اس وقت انھوں نے سیاسی کام سے سخت نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی لعنت ہو سیاست پر اور سیاست دانوں پر اور ہر اس چیز پر جو سیاست کے لفظ سے تعلق رکھتا ہو قال محمد عبدہ بعد ان يئس من العمل السياسي مع جمال الدین الافغاني : لعن الله السياسة والسّاسة وكل ما يتصل بكلمة ساس يَسُوسُ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ مصر کے ایک بڑے عالم نے جس سیاست پر اس طرح لعنت بھیجی تھی ، اسی سیاست کو دوبارہ مصری نوجوانوں نے مزید شدت کے ساتھ اختیار کر لیا اور وہ جماعت وجود میں آئی جس کو الاخوان المسلمون (قائم شده ۱۹۲۸) کہا جاتا ہے۔ آخر اس کا سبب کیا ہے۔ مفتی محمد عبدہ کا اظہار لعنت مصری نوجوانوں کو اس ہلاکت خیز سیاست سے روکنے میں کامیاب کیوں نہ ہوا۔

اس کی کم از کم ایک خاص وجہ یہ ہے کہ مفتی محمد عبدہ نے لعنت کی زبان میں تو اس کے خلاف اظہار خیال کیا، مگر وہ دلیل کی زبان میں اس کو لوگوں کے سامنے ثابت نہ کر سکے۔ انسان کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page