Al-Risala · August 1995 · page 17

Granada, paradise regained

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۱۷

چھوڑ کر مراکو، ترکی اور مصر چلے جائیں گے۔

تاتاری سردار ہلاکو خاں نے ۱۲۵۸ء میں بغداد کی مسلم سلطنت کا خاتمہ کیا تھا۔ اسپینی بادشاہ فرڈیننڈ دوم نے ۱۴۹۲ء میں غرناطہ کی مسلم سلطنت کو آخری طور پر ختم کر دیا۔ ایک صاحب نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا : یہ اسلام دشمنوں کی سازش کا نتیجہ تھا۔

میں نے کہا کہ اگر بغداد کی عباسی سلطنت کا خاتمہ اسلام دشمنوں کی سازش کی بنا پر ہوا تو اس کے صرف پچاس سال بعد انھیں دشمنوں کا خادمانِ اسلام بن جانا کس سازش کا نتیجہ تھا۔ میں نے کہا کہ سازش کے تصور کے تحت مسلم تاریخ کی توجیہ کرنا مسلم قوم کو مقہور اور غیر مسلم قوم کو قاہر کے مقام پر بٹھانا ہے۔ اس طرح کا تصور تاریخ سراسر قرآن کے خلاف ہے۔

میں نے کہا کہ امتِ محمدی کا مستقبل تمام تر دعوت کے اوپر منحصر ہے۔ مسلمانوں کے لیے مقدر ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کو ادا کر کے اٹھیں گے اور دعوت الی اللہ سے کوتاہی کر کے گریں گے۔ بغداد اور غرناطہ کی سلطنت کے زمانہ میں مسلمانوں نے علمی اور مادی اعتبار سے غیر معمولی ترقی کی۔ مگر یہ ترقیاں ان کے لیے حفاظت کا ذریعہ نہ بن سکیں۔

تا ہم خود اسی المیہ میں یہ سبق بھی موجود ہے کہ عباسی خلافت کے خاتمہ کے بعد جب مسلمانوں کے پاس سیاسی اور فوجی طاقت نہ رہی تو انھوں نے اسلام کی دعوتی طاقت کو استعمال کیا۔ اور اس کے بعد تاریخ نے دیکھا کہ جہاں بظاہر کھنڈر تھا وہاں ایک شاندار قلعہ بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ تاریخ کا یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے ایک ابدی نشان راہ ہے۔

ایک عرب دوست نے مجھے ایک کتاب ہدیہ میں پیش کی ۔ ۱۶۰ صفحہ کی یہ کتاب ۱۹۹۳ء میں مکتبہ اشبیلیہ (الریاض) سے چھپی ہے۔ اس کتاب کے مصنف عبد الرحمن عبد الوہاب ہیں اور اس کا نام ہے : تصفية الوجود الاسلامی - یعنی اسلامی وجود کا خاتمہ - کتاب کے ایک حصے میں بڑے جذباتی انداز میں سقوطِ غرناطہ کا ذکر ہے اور اس کے بعد کہا گیا ہے :

هاهي الاندلس ضاعت واصبحت ذکری یہ ہے وہ اندلس جو کھو گیا اور محض ایک ایسی یاد بن کر رہ گیا نبکی علی اطلالها و نبکی تخاذل المسلمین جس کے کھنڈروں پر ہم روتے ہیں۔ اور جس کی حفاظت کے سلسلہمیں مسلمانوں کی کوتاہی اور دستبرداری پر آنسو بہاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page