No one has right to highjack the name of God.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۲۲
میں اضافہ کریں۔
اسرائیل سے بہت سے یہودی تیز عیسائی افراد یہاں آئے تھے۔ ان لوگوں سے میں معلوماتی انداز کی گفتگو کرتا رہا۔ ان میں ایک آوی شاکیت (Avi Shoket) تھے۔ ان کا تعلق فارین افیرس سے ہے۔ ان سے فلسطین کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ جب میں ان سے فلسطینیوں کے حق میں اپنے دلائل دے رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ہر دلیل کے جواب میں ایک متوازی دلیل ان کے پاس موجود ہے۔ میں نے سوچا کہ جب دونوں فریق یکساں طور پر اپنے آپ کو بر حق سمجھ رہے ہوں تو آخر یہ مسئلہ کیوں حل ہو سکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یاسر عرفات اور حکومت اسرائیل کے درمیان حال میں جو معاہدہ امن ہوا ہے اس کے بارہ میں اسرائیل کی اکثریت کی سوچ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں کی اکثریت خوف (fear) میں مبتلا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کو خاموش مدد پہنچارہے ہیں۔ ہم نے مختلف حکومتوں کو ابھارا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو مالی مدد دیں۔ حتیٰ کہ ہم بالواسطہ ذرائع سے کام لے کر خود بھی فلسطینیوں کو مالی مدد دے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایسا ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ فلسطینی جب تک معاشی اعتبار سے مطمئن نہ ہوں ، اس علاقہ میں امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔
نادان آدمی اپنے حریف کو مار کر اسے ختم کرنا چاہتا ہے۔ دانش مند آدمی اپنے حریف کو خاموش کر کے اس کے اوپر فتح حاصل کر لیتا ہے۔
آوی شاکیت اسرائیلی حکومت میں اعلیٰ افسر ہیں۔ وہ شستہ انگریزی بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل عالمی برادری میں تنہائی (isolation) میں پڑ گیا تھا۔ اس تنہائی کا پہلا فائدہ ہم نے یہ اٹھایا کہ ہم یکسو ہو کر اپنی داخلی ترقی میں لگ گئے۔ مثلاً، ہم نے اپنی بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے پر اپنی توجہ لگا دی۔ اس خاموش جد و جہد کے نتیجہ میں ہم نے جو ترقی کی اس نے اب ہم کو اس پوزیشن تک پہنچا دیا ہے کہ ہم دنیا کی قوموں سے تعاون کر کے انھیں بہت کچھ دے سکیں۔
بنجر زمین کو کار آمد بنانے کے لیے ہمارے جو تجربات ہیں ان کی بنیاد پر ہمارے یہاں ایک مستقل شعبہ (Arid Zone Institute) قائم ہے۔ اس شعبہ کے تحت ہم مختلف ملکوں کو اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ انھیں ملکوں میں سے ایک آپ کا ملک انڈیا بھی ہے۔ انڈیا میں گجرات اور راجستھان میں ہمارے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues