No one has right to highjack the name of God.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱
ہوئی ، وہ ابن طفیل اور ابن رشد کی طرح ایک عظیم فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ اس کو محدث رائے دیتے ہیں۔ پروفیسر خواکین لومبا اسی شہر سرقسطہ میں پیدا ہوئے۔
پروفیسر خواکین لومبا عربی بھی جانتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اقبال نے لکھا ہے کہ بارھویں صدی کے بعد اسلامی فلسفہ کی ترقی رک گئی۔ اس کے بعد کوئی بڑا مسلم فلسفی پیدا نہیں ہوا۔ اس کا سبب آخر کیا ہے۔
میں نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے ، یہ دور میں تبدیلی کا معاملہ ہے۔ قدیم معنی میں جس چیز کو اسلامی فلسفہ کہا جاتا ہے ، اس کی تشکیل اس زمانہ میں ہوئی جب کہ دنیا میں یونان کی قیاسی منطق کا غلبہ تھا۔ مسلم فلسفیوں نے اس میں مہارت پیدا کی اور اس کی بنیاد پر اپنا فلسفہ مرتب کیا۔ مگر سائنسی انقلاب کے بعد یہ منطق ختم ہو گئی۔ اب سائنسی منطق کا دور آ گیا۔ مگر مسلم ذہن سائنسی منطق میں مہارت نہ پیدا کر سکے، اس لیے وہ جدید علم کی بنیاد پر اسلامی فلسفہ (جدید علم کلام) بھی تشکیل نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ دور اول میں جب مسلمانوں کا مقابلہ یونانی منطق سے پیش آیا تو وہ فاتح کی نفسیات میں جی رہے تھے۔ انھوں نے بڑھ کر یونانی منطق کو سیکھا اور اس میں مہارت حاصل کی۔ اس طرح وہ اس قابل ہو گئے کہ یونانی منطق کو اسلامائز کریں اور اس کی بنیاد پر ایک طاقت ور علم کلام پیدا کر سکیں۔
مگر موجودہ دور میں جب سائنسی منطق کا زمانہ آیا تو مسلمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں مفتوح اور مغلوب بن چکے تھے۔ چنانچہ ان میں اقدام کے بجائے تحفظ کا مزاج پیدا ہو گیا تھا۔ اس شکست خوردہ نفسیات کی بنا پر مسلم دانشور نے علوم کو شک کی نظر سے دیکھتے رہے ، وہ آگے بڑھ کر ان سے واقف ہونے اور ان کو استعمال کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے ۔
ایک مسلم اسکالر نے کہا کہ مسلم دور میں قرطبہ کی لائبریری میں چار لاکھ (400،000) کتابیں تھیں۔ جب کہ اس وقت سارے یورپ کی تمام لائبریریوں میں بھی اتنی کتابیں موجود نہیں تھیں ۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ باتیں صرف جھوٹا فخر پیدا کرتی ہے۔ آج ضرورت یہ ہے کہ مسلمان وقت کو سمجھیں اور اپنے بچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے محنت کریں۔ ہمیں ماضی کے علمی کارناموں پر فخر کرنے کے بجائے یہ کرنا چاہیے کہ ہم محنت کر کے آج کے علم انسانی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues