Peace is not very near.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۳۰
مگر مسلم لیڈروں نے غیر مسلم قوموں کی بعض زیادتیوں پر بے برد اشت ہو کر ان کے خلاف ٹکراؤ شروع کر رکھا ہے۔ اس ٹکراؤ کو وہ بطور خود جہاد سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جہاد نہیں ہے بلکہ سرکشی ہے۔ مسلم لیڈروں کو اس سرکشی سے توبہ کرنا ہے۔ انھیں ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر نرمی اور محبت کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ یہ تو بہ ہے اور وہ مسلم لیڈروں کے اوپر فرض کے درجہ میں ضروری ہے۔ اگر انھوں نے یہ توبه نہ کی اور مدعو قوموں سے موجودہ ٹکراؤ کی پالیسی کو انھوں نے جاری رکھا تو یقینی طور پر وہ خسر الدنیا و الآخرة کا مصداق بن کر رہ جائیں گے ۔ اور ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ بھی انھیں حاصل نہ ہوگا۔ حسب معمول ۲۹ نومبر کی صبح کو تمام لوگ گاڑیوں کے ذریعہ ہوٹل سے یونی ورسٹی لے جائے گئے۔ راستہ میں مختلف قسم کے اسپینی مناظر سامنے آتے رہے۔ یہ علاقہ پہلے مسلم اسپین میں شامل تھا جس کو اب ایبیر یا (Iberia) کہا جاتا ہے۔
یونی ورسٹی میں ایک صاحب پر تپاک طور پر ملے۔ انھوں نے کہا السلام علیکم۔ وہ عربی زبان میں بول رہے تھے۔ انھوں نے اپنا نام فادر چیری بیکر بتایا۔ ان کے چہرہ پر مسلمانوں جیسی سفید داڑھی تھی۔ وہ فرانس میں پیدا ہوئے۔ عرصہ سے وہ الجیریا میں مشنری کے طور پر کام کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ الجزائر کے مستقبل کے بارہ میں آپ کا اندازہ کیا ہے۔ انھوں نے انگریزی میں جواب دیا کہ امن ابھی قریب نظر نہیں آتا :
Peace is not very near.
ایک یہودی جن کا نام موریس رومانی بتایا گیا تھا۔ انھوں نے صبح کے اجلاس میں بولتے ہوئے کہا کہ اسپین کی قدیم تاریخ مسلم۔ کھر بچین۔ یہودی کے کو آرڈی نیشن کی شاندار مثال ہے۔ اسی کو آرڈی نیشن نے اسپین کا گولڈن ایج پیدا کیا تھا۔ اس زمانہ میں عربی زبان کا عام رواج تھا۔ اس زمانہ میں کرسچین، یہودی اور مسلمان آزا دانہ طور پر آپس میں عربی میں بات کرتے تھے۔ اب ہم کو دوباره اسی کو آرڈی نیشن کی ضرورت ہے۔
۲۹ نومبر کی شام کو آخری اجلاس تھا۔ اس میں اسپین کے کنگ اور کوئن دونوں شریک ہوئے۔ ہال کے اندر دونوں بالکل سادہ انداز میں داخل ہوئے۔ دونوں معمولی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اسٹیج پر ان کے لیے کوئی خصوصی کرسی بھی نہیں رکھی گئی۔ میری نشست ان کے بہت قریب تھی، اس لیے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues