We are slave, we can't live without America.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۲۹
وہ کبھی عربی میں بولتی تھیں اور کبھی انگریزی میں ۔ ایک بار انہوں نے امریکہ کے خلاف جذباتی انداز میں بولتے ہوئے کہا کہ ہم غلام ہیں ، ہم امریکہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے :
We are slave, we can't live without America.
میں نے کہا کہ خاتون محترم ، اگر صورت حال بالفرض وہی ہے جو آپ بتاتی ہیں تب بھی یہاں لفظی احتجاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں اپنی کمیوں کو دور کرنا ہے ، اس کے بعد ہی ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم دوسری قوموں کی زیادتی سے محفوظ رہ سکیں۔
مسلمانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اسلام میں جن باتوں کی تعلیم دی گئی ہے ان میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو تو بہ کہا جاتا ہے۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد دوبارہ درست طریقہ کی طرف واپس آنا۔ یہ تو بہ اسلامی زندگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ جس آدمی کے اندر تو بہ کا مزاج نہ ہو وہ کبھی ایمان و اسلام میں ترقی نہیں کر سکتا۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاح کا معاملہ تو بہ کے ساتھ بندھا ہوا ہے (القصص ، ۶۷) تو بہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد سچی تو بہ کرے اور اس کی شرطوں کو پورا کرے تو اس نے تو بہ سے پہلے جو برائی کی تھی اس کو بھی بھلائی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے (الفرقان ، ۷۰) میں نے کہا کہ مسلمان تو بہ کے اس حکم کو چھوٹے چھوٹے معاملات میں تو جانتے ہیں مگر وہ بڑے بڑے معاملات میں اس کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میں جس سب سے بڑی غلطی میں مبتلا ہیں وہ دوسری قوموں سے ٹکراؤ کی پالیسی ہے۔ یہ ٹکراؤ اللہ کی نظر میں جرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹکراؤ سے یک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ اس ٹکراؤ سے مسلمانوں کو نہیں ملا۔
غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے لیے مدعو قوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان قوموں کے سلسلہ میں مسلمانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ انھیں خدا کی تعلیمات سے باخبر کیا جائے۔ ہر قسم کے بہترین ذرائع کو استعمال کر کے ان لوگوں تک دین حق کا پیغام پہنچایا جائے۔ پیغام رسانی کے اس عمل کو معتدل انداز میں جاری رکھنے کے لیے یہ بھی مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ ان قوموں کی زیادتی کو برداشت کریں ، وہ ان کی اشتعال انگیزی کے باوجو د ان کے خیر خواہ بنے رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues