Peace is not very near.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۳۴
یورپ اور اقوام متحدہ ان کے مقابل میں آجائیں گے ، اس معاملہ میں جو عذر آپ کے لیے ہے وہی عذر ان کے لیے بھی ہے۔
جس طرح اسپین کے مقابلہ میں مراکو کے لیے سبتہ کا مسئلہ ہے ، اسی طرح خود اسپین کے لیے برطانیہ کے مقابلہ میں جبرالٹر کا مسئلہ ہے۔ جبرالٹر جغرافی طور پر اسپین کا حصہ ہے ، مگر ابھی تک اس کے اوپر برطانیہ کا قبضہ باقی ہے۔
المجلة (جدہ) کے شمارہ ۱۳ - ۱۹ نومبر ۱۹۹۴ء (۱۰ - ۱۶ جمادی الآخرة ۱۴۱۵ھ) میں مراکو کے الملک الحسن الثانی کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ اس سلسلہ میں مجلہ کے رئیس التحریر عبدالرحمن حمد الراشد نے ان سے ملاقات کی تھی۔ شاہ حسن نے عرب لیگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا :
کیا ، ہم عرب لیگ کو قبر میں دفن کر دیں۔ اور اس کا جنازہ کس طرح نکلے گا۔ شاہ نے اپنے آپ سے سوال کیا اور پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف میثاق کی تبدیلی پر اکتفا نہ کریں۔ بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم نئی عرب لیگ کے بارہ میں سوچیں۔ کیوں۔ اس لیے کہ عرب لیگ اب تک عرب - اسرائیل اختلاف کی بنا پر قائم تھی۔ یہی اختلاف اس کو غذا پہنچاتا تھا اور اس کو آکسیجن دیتا تھا۔ اور جب بھی وہ کمزور ہوتا تھا تو وہ اس کو طاقت کا انجکشن دیتا تھا۔ آج یہ عرب - اسرائیلی اختلاف کمزور ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ خدا نے چاہا تو وہ ختم ہونے والا ہے۔ اب ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم اس گھر سے وابستہ رہیں جس کو ہم عرب لیگ کہتے ہیں۔ تاکہ ہماری اجتماعیت قائم ہو سکے۔ شاہ نے اختصار کے ساتھ اس کو اس طرح کہا : ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم عرب لیگ کے لیے ایک نئے فکر کو ظہور میں لائیں : هل سنقر الجامعة العربية و كيف ستكون جنازتها؟ سأل الملك نفسه وأجاب بنفسه قائلاً: "اقول يجب ان لا نكتفي بتغيير الميثاق، يجب ان نفكر في جامعة عربية جديدة، لماذا؟ لان الجامعة العربية الى حد الآن كانت موجودة بسبب الخلاف العربي - الاسرائيلي، وكان ذلك الخلاف يغذيها ويعطيها الاوكسجين ويعطيها حقناً كلما ضعفت. اليوم هذا الخلاف اصبح يضعف ريثما ينتهي ان شاء الله ... علينا اذن ان نبقى متشبثين بهذا البيت الذي نسميه الجامعة العربية ليجمع شملنا". قالها باختصار، "علينا ان نبلور فكرة جديدة للجامعة"
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues