Good morning. This is a wake-up call.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۳۸
میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کے لیے اس طرح اسپین میں مال غنیمت لوٹنا اور لونڈی اور غلام بنانا صحیح نہ تھا۔ کیوں کہ مالِ غنیمت کا اسلامی قانون اس جنگ کے لیے ہے جو کسی قوم نے یک طرفہ جارحیت کرکے مسلمانوں کے خلاف چھیڑی ہو۔ مگر اسپین کے لوگ اس معنی میں جارح نہ تھے۔ اس لیے فتح کے بعد ان کے اموال کو لوٹنا اور ان کو لونڈی اور غلام بنانا صحیح نہیں ہوسکتا۔ مزید یہ کہ مالِ غنیمت کا قانون بھی صرف میدانِ جنگ کے لیے ہے نہ کہ عام آبادی کے لیے۔
ایک اور صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ طارق بن زیاد یا بابر کے معاملے کو عام طور پر اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ”طارق کا حملہ اسپین پر“ یا ”بابر کا حملہ ہندوستان پر“۔ مگر یہ درست نہیں ۔ یہ شاہی دور کے واقعہ کو جمہوری دور کی اصطلاح میں بیان کرنا ہے۔ آج قومی جمہوریت کا زمانہ ہے ۔ آج ایک قوم یا ملک کا حملہ دوسری قوم یا ملک پر ہوتا ہے۔ مگر شاہی دور میں ایسا نہ تھا۔ اس زمانہ میں جو سیاسی ٹکراؤ پیش آتا تھا وہ ایک بادشاہ کا دوسرے بادشاہ سے ہوتا تھا نہ کہ ایک قوم کا دوسری قوم سے۔
اسپین میں طارق بن زیاد کے داخلہ کو اسی زمانی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ مزید یہ کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ معروف معنوں میں کوئی جارحانہ داخلہ نہ تھا بلکہ اس کی نوعیت یہ تھی کہ سابق حکمران کے ظلم سے لوگ تنگ آگئے تھے، اس لیے انھوں نے اپنے سابق حکمران کے خلاف نئے حکمراں کو دعوت دی اور اس کا استقبال کیا۔
۲۹ نومبر کو میڈرڈ کے اخبار (Puerta de Madrid) کی خاتون نمايندہ لوئیلا (Leolla) نے انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات فطرت پر مبنی ہیں۔ اور فطرت ہمیشہ امن کو پسند کرتی ہے ۔ اس لیے اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے ۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے، اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں۔
اسی طرح ایک اور اسپینی اخبار (La Libre Belgique) کی خاتون نمايندہ پاسکل بورگا (Pascale Bourgaux) نے اپنے اخبار کے لیے انٹرویو لیا۔ ان کو میں نے اپنے پیپر ”پیس ان اسلام“ کی ایک کاپی دی۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ موجودہ قسم کی کانفرنس کو صرف اس کے تین روزہ اجلاس کی روشنی میں نہیں جانچنا چاہیے بلکہ اس کو ایک عمل (Process) کے روپ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues