Good morning. This is a wake-up call.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹
میں دیکھنا چاہیے ۔ اسی وقت اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان سے ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری آئے تھے۔ وہ اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اسلام آباد) کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پاکستان میں ایک بڑی تباہ کن سیاسی روایت جاری ہو گئی ہے ۔ اور وہ یہ کہ جو پارٹی الیکشن میں ہارتی ہے وہ اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتی ۔ پولنگ بوتھ پر ناکامی کے بعد وہ دوبارہ سڑک کی سیاست پر آ جاتی ہے ۔ وہ جلسہ جلوس ، حتیٰ کہ توڑ پھوڑ کے ہنگامے جاری کر کے چاہتی ہے کہ جیتی ہوئی پارٹی کو میعاد سے پہلے اقتدار سے بے دخل کر دے ۔ یہ سیاست نہیں ہے بلکہ سیاست کے نام پر دادا گیری ہے۔
میں نے کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق ، اس غلط سیاسی روایت کو پاکستان میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے شروع کیا۔ ان کو محمد ایوب خاں کے مقابلہ میں واضح انتخابی شکست ہوئی ۔ مگر انھوں نے اپنی شکست کو تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ ایوب خاں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے دوبارہ نئے عنوان سے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی مہم شروع کر دی ۔ اس کے بعد پاکستان میں یہی سیاسی روایت طور پر چل پڑی ۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری نے بطور واقعہ اس کو مانتے ہوئے کہا کہ اس کی جڑ یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن میں سیاست ہی سب کچھ بن گئی ہے۔ سیاست کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کی وجہ سے موجودہ زمانہ میں ہر جگہ اس قسم کی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں ۔
ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری الہ آباد میں ۱۹۳۲ میں پیدا ہوئے ۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے گئے ۔ پھر باہر جا کر انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ ان سے میں نے پوچھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک جملہ میں آپ کا مشورہ کیا ہے ۔ انھوں نے ایک لمحہ سوچا اور پھر جواب دیا : انھیں چاہیے کہ عقل سے کام لیں ۔ پاکستان کے جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے نومبر ۱۹۸۹ میں اسپین کا سفر کیا تھا۔ ان کے ساتھ ایک اور پاکستانی مسلمان جناب سعید احمد صاحب بھی تھے ۔ انھوں نے اپنا سفر نامہ " اندلس میں چند روز" کے نام سے شائع کیا ہے ۔ سفر کے آخری مرحلہ کا ایک واقعہ وہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : " میرے دوست اور رفیق سفر سعید صاحب اندلس کے ماضی و حال کے تصورات سے اس درجہ متاثر تھے کہ ایک مرحلہ پر بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا : کیا کبھی مسلمان اس خطہ کو دوبارہ ایمان سے منور کر سکیں گے ۔ میں نے عرض کیا : اس وقت تو مسلمان اپنے موجودہ خطوں کو ٹھیک سے سنبھال لیں اور
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues