Al-Risala · August 1995 · page 52

Good morning. This is a wake-up call.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۵۲

ترقی کے اس عمل میں اسپین کی کڑی حذف ہونے کی ذمہ داری خود اسپین پر ہے۔ پندرہویں صدی میں اسپینیوں نے مسیحی چرچ کے زیر اثر یہ مجنونانہ کام کیا کہ علم و فن کے مسلم ماہرین کو ملک سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ چونکہ مسلمان ہی اس تہذیبی عمل کو اسپین میں جاری کیے ہوئے تھے۔ اس لیے اس جبری انخلاء کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین کی کڑی ٹوٹ گئی، اور اٹلی ہی کی کڑی علاء اہل یورپ کے لیے باقی رہی۔ اس مسئلہ پر ایک اسپینی اسکالر سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ واقعات کی فطری رفتار میں جب بھی تشدد کے ذریعہ تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے گی، ہمیشہ اسی قسم کا منفی نتیجہ نکلے گا۔ اس دنیا میں تدریجی تبدیلی ہی قابل عمل ہے۔ ریڈیکل تبدیلی صرف ایک لفظ ہے۔ اس کے نتیجہ میں عملاً جو چیز ظہور میں آتی ہے وہ صرف تخریب ہے نہ کہ تبدیلی۔

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی اور نویں صدی عیسوی کے درمیان یورپ میں بت اور مذہبی تصویروں کے خلاف جو مہم اٹھی اس کو بھی مسلم اسپین ہی سے تحریک ملی تھی (ان الدعوة الى نبذ الصور والتماثيل كانت متأثرة بالاسلام)

کلو دیس (Claudius) کو ۸۲۸ء میں تورین کا اسقف مقرر کیا گیا۔ وہ مذہبی تصویروں کو غیر مقدس قرار دینے میں اتنا شدید تھا کہ وہ اس قسم کی تصویروں اور صلیبوں کو جلا دیا کرتا تھا اور اپنے چرچ میں اس کی عبادت کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہ کلو دیس اندلس میں پیدا ہوا اور وہیں اس کی پرورش ہوئی (ولد وربي فى الاندلس الاسلامية) ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ٣٩ - ۱۳۸ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ۱۴۹۲ء میں غرناطہ کی مسلم سلطنت پر قبضہ کرنے کے بعد عیسائی حکمرانوں نے یک طرفہ طور پر مسلمانوں کو مارنا اور بھگانا شروع کر دیا۔ مگر بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس وقت مسلمان اسپینیوں کے لیے بہترین مزدور اور بہترین کاریگر کی حیثیت رکھتے تھے۔ انھوں نے ان کے صنعت و حرفت اور زراعت و باغبانی کے نظام کو ترقی دی تھی اور اس کو سنبھالے ہوئے تھے۔ اس لیے اسپینیوں کو عام مسلمانوں سے وہ نفرت نہیں ہو سکتی تھی جو ان کو سیاسی حکمرانوں سے تھی۔ مگر مسلم حکومت کے خاتمہ کے بعد ان مسلمانوں نے عیسائی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ بار بار ان کے خلاف بغاوت کرتے رہے۔ اگر چہ ناکافی تیاری کی بنا پر وہ ہر بار کچلے جاتے تھے۔ مزید یہ کہ اسپین کی مذہبی مخالفت کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہیں تھا بلکہ وہ تمام غیر عیسائی مذاہب سے تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page