Al-Risala · August 1995 · page 51

Good morning. This is a wake-up call.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۵۱

اصل یہ ہے کہ وہ زندگی کے عزائم سے بھرے ہوئے تھے۔ اور جو قوم زندگی کے عزائم سے بھری ہوئی ہو وہ اسی طرح بڑے بڑے کارنامے انجام دیتی ہے۔

جے ایم رابرٹس ایک منصف مزاج مورخ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے تاریخ کے موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ انھیں میں سے ایک ۵۰ء صفحہ کی کتاب دنیا کی تاریخ ہے : J.M. Roberts, The Pelican History of the World اس کتاب میں مصنف نے کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے کہ عربی اسپین (Arab Spain) ہی یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا سبب تھا۔ حتیٰ کہ انڈیا، چین اور یونان کی علمی وراثت بھی اسپین مسلمانوں ہی کے ذریعہ یورپ تک پہنچی۔ اسطرلاب ابتدائی طور پر اگرچہ ایک یونانی ایجاد تھی۔ لیکن یہ عرب ہی تھے جو اس کو مغرب تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ جب چاسر (Chaucer) نے اسطرلاب کے استعمال پر اپنا رسالہ لکھا تو اس نے ایک عرب رسالہ کو بطور ماڈل اپنے سامنے رکھا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرون وسطی میں یورپ کسی بھی دوسری تہذیب کا اتنا احسان مند نہیں جتنا کہ اسلام کا :

To no other civilization did Europe owe so much in the Middle Ages as to Islam. (p. 511)

ایک صاحب کو عالمی نقشہ دکھاتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کو دیکھئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یورپ اسپین کے مقام پر آگے بڑھ کر افریقہ کی مسلم دنیا سے مل رہا ہے۔ یہ ملاقات عملاً پیش آئی۔ مگر وہ زیادہ تر سیاسی اور علمی سطح پر باقی رہی۔ دعوت کی سطح پر دونوں کے درمیان زیادہ تعلق قائم نہ ہوسکا۔

چودھویں اور پندرھویں صدی کے درمیان یورپ میں ترقی کا وہ واقعہ ہوا جس کو نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ مغربی مورخین عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ یہ یونانی اور رومی تہذیب کا احیار تھا۔ جو پہلے اٹلی میں ہوا، اور پھر دوسرے یورپی ملکوں تک پہنچا۔ مگر یہاں ایک درمیانی کڑی کو حذف کر دیا گیا ہے، اور وہ اسپین ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسپین میں قدیم تہذیبی سرمایہ کو لے کر اس میں اضافے کیے ۔ اس طرح اسپین میں ایک اعلیٰ تہذیب وجود میں آئی ۔ پھر یہ تہذیب اٹلی میں داخل ہو کر بقیہ یورپی ملکوں تک پہنچی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page