Al-Risala · August 1995 · page 59

Good morning. This is a wake-up call.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۵۹

ابن حزم نے سمجھا کہ فقہ میں قیاس کو داخل کرنا بس یہی اختلاف اور بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ وہ قیاس کے منکر ہوگئے اور صرف ظاہر پر زور دینا شروع کر دیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کئی کتابیں لکھیں۔ ایک کتاب کا نام ہے : ابطال القیاس والرائے والاستحسان والتعلیل ۔

ابن حزم نے لکھا کہ ان اللہ تعالیٰ یقول : وما اختلفتم فیه من شیئ فحکمہ الی اللہ۔ ولم یقل سبحانہ وتعالیٰ فحکمہ الی الرای والقیاس ( الاحکام فی اصول الاحکام ، ۵۳/۶) اس ظاہری مسلک کی بنا پر ابن حزم بہت زیادہ نزاعی شخصیت بن گئے۔ وہ کئی بار قید کیے گئے۔ ان کی تکفیر و تضلیل کی گئی۔ ان کی کتابیں جلا دی گئیں۔ حتیٰ کہ ان کی لکھی چار سو کتابوں میں سے اب مشکل سے چالیس کتابیں دنیا میں باقی ہیں۔

اس موضوع پر ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ابن حزم کا کیس در اصل انتہا پسندی کا کیس ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اُس زمانے کے فقہاءء کثرت سے قیاس کا غلط استعمال (سوء استخدام) کر رہے تھے۔ لیکن اگر تمام فقہی کتابیں جلا دی جائیں اور صرف قرآن و حدیث دنیا میں رہ جائے تب بھی غلط استعمال کی برائی باقی رہے گی۔ کیونکہ غلط استعمال کا سبب متن میں نہیں ہوتا بلکہ آدمی کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے۔

میں نے مزید کہا کہ فقہا اسلام نے چار چیزوں کو مصادر شریعت قرار دیا ہے —— قرآن ، سنت ، اجماع ، قیاس ۔ میں سمجھتا ہوں کہ حدیث کے الفاظ کی اتباع کی جائے تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ مصادر شریعت تین ہیں : قرآن ، سنت اور اجتہاد ۔ اجتہاد سے مراد آزادانہ رائے نہیں ہے ، بلکہ وہ رائے ہے جو قرآن و سنت کی بنیاد پر مخلصانہ طور پر قائم کی گئی ہو۔ اجتہاد کے مختلف درجے ہیں۔ انھیں درجات کا نام قیاس اور اجماع ہے۔

قاضی منذر بن سعید قرطبہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ ۳۶۶ھ میں قرطبہ میں ان کی وفات ہوئی ۔ وہ علم اور زہد دونوں میں ممتاز درجہ رکھتے تھے ۔ اپنے زمانے کے اندلس میں وہ قاضی القضاۃ کے عہدہ پر مقرر ہوئے ۔ اور آخر تک اس عہدہ پر قائم رہے۔

ابن الاثیر نے اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں ۳۸۶ ھ کے حالات کے تحت لکھا ہے کہ سلطان عبد الرحمن الناصر نے جب الزہراء کا محل تعمیر کر لیا تو ایک دن وہ اپنے سونے کے تخت پر

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page