A journey to hell and back again
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۵
دین کے نام پر جنگ کی باتیں کرنے والوں کی اس نے تین قسم بتائی تھی۔ ان میں قسم اول الاخوان المسلمون کی تھی۔
اسی کے ساتھ عرب امارات کا روزنامہ الاتحاد (۳۰ اکتوبر ) پڑھا۔ یہ ۲۸ صفحات پر نکلتا ہے۔ ان اخبارات کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ مصر اور اس قسم کے دوسرے ملکوں کے عوام کا ایک ایڈوانٹیج یہ ہے کہ ان کی زبان اور قومی صحافت کی زبان ایک ہے۔ اس لئے دونوں کے درمیان براہ راست رشتہ مسلسل قائم رہتا ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کی سرگرمیاں بھی با آسانی لکی صحافت میں جگہ پاتی رہتی ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں قومی صحافت کی زبان اور مسلمانوں کی زبان الگ الگ ہیں۔ اس کے نتیجہ میں مسلمان قومی صحافت کی سطح پر ایک غیر متعلق گروہ بن گئے ہیں۔ ملک کو ان کی شخصیتوں اور ان کی سرگرمیوں کی کوئی اطلاع نہیں ہوتی اس کے کہ یہاں کی صحافت کبھی مسلمانوں کی کسی خبر کو خود اپنے مقاصد کے لئے چھاپنا پسند کرے۔
ڈھائی گھنٹہ کی پرواز کے بعد یکم اکتوبر ۱۹۹۲ کو ۹ بجے ہمارا جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ طویل سفر اس طرح ختم ہوا کہ ہم جہاں سے چلے تھے، دوبارہ وہیں پہنچ گئے۔ میں نے سوچا کہ آخرت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ آدمی خدا کے پاس سے آیا ہے۔ اور دوبارہ اس کو خدا کی عدالت میں پہنچا دیا جائے گا۔ یہ معاملہ واپسی کا معاملہ ہوگا نہ کہ کسی نئے مقام پر جانے کا۔ ٹامس فلر (Thomas Fuller) ایک انگریز مصنف تھا۔ وہ ۱۶۰۸ میں پیدا ہوا۔
اور ۱۶۶۱ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ سفر عقل مند آدمی کو زیادہ بہتر بناتا ہے۔ اور بیوقوف آدمی کو اور زیادہ خراب کر دیتا ہے:
Travel makes a wise man better, but a fool worse. اس کی وجہ یہ ہے کہ واقعات خارج میں خواہ کچھ ہوں ، آدمی ان کو اپنی نظر سے دیکھتا ہے۔ جتنی آدمی کی نظر ہوگی اتنا ہی وہ واقعات کو دیکھ اور سمجھ پائے گا۔
سفر نامہ لکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اگر میں ایسا کروں کہ صرف ایک سطر کا سفر نامہ شائع کر دوں جس میں بس یہ لکھا ہوا ہو کہ ” میں دہلی سے فلاں فلاں مقام پر گیا اور پھر دوبارہ دہلی واپس آگیا“ تو پڑھنے والے کہیں گے کہ یہ تو صرف ایک خبر ہے۔ اس سے ہم سفر کی بابت کیا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues