الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۸۲
مذکورہ کانفرنس میں ایک بڑا عبرت انگیز واقعہ پیش آیا ، اس کو ایک عرب ڈاکٹر مصطفیٰ الشکہ نے بیان کیا ہے ، جو اس میں شریک تھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ شکاگو یونیورسٹی کے نمائندہ ڈاکٹر اسمتھ (Dr Smith) نے کانفرنس میں جو مقالہ پیش کیا وہ اول سے لے کر آخر تک اسلام اور مسلمانوں کے اوپر جارحانہ حملہ تھا۔ حتیٰ کہ اپنی بات ختم کرتے ہوئے انھوں نے پرجوش طور پر کہا کہ اسپین کے باشندوں نے جو سب سے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے یہاں سے عربوں اور مسلمانوں کو باہر نکال دیا (اعظم عمل قام به الإسبان هوطرد العرب والمسلمين من إسبانيا) مناهج المستشرقين ، الرياض ۱۹۸۵ء ، اس کے بعد میڈرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مونتابت کھڑے ہوئے اور نہایت پُر زور الفاظ میں امریکی مستشرق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نہ تاریخ کو پڑھا ہے اور نہ اس کو سمجھا ہے۔ اگر وہ آٹھ سو سال نہ ہوتے جو اسپین نے اسلام اور اسلامی تہذیب کے سایہ میں گزارے ہیں ، تو ہمارا ملک کبھی تہذیبی تاریخ کے دور میں نہ داخل ہوتا۔ انھیں آٹھ صدیوں کی بدولت اسپین اس قابل ہوا کہ اپنے پڑوس کے یورپی ملکوں میں علم وثقافت کی روشنی پھیلائے جو اُس وقت جہالت ، ناخواندگی اور پس ماندگی کے اندھیرے میں بھٹک رہے تھے :
إنه لم يقرأ التاريخ ولم يفهمه .. إسبانيا ما كان لها أن تدخل التاريخ الحضاري لولا القرون الثمانية التي عاشتها في ظل الاسلام وحضارته ، وكانت بذلك باعثة النور والثقافة إلى الاقطار الأوروبية المجاورة المتخبطة آنذاك في ظلمات الجهل والأمية والتخلف (كتاب مذکور صفحه ۲۷۷)
ڈاکٹر مونتابت مشہور اسپینی مستشرق فرانسیسکو کوڈیران زیدین (Francisco Codera Zaydin) کے شاگرد ہیں۔ کوڈیررا کا سال پیدائش ۱۸۳۶ اور سال وفات ۱۹۱۷ء ہے۔ وہ قدیم اسلامی تہذیب و روایات اور عربوں کی محبت سے سرشار تھا (لقد أشرب كوديرا حب العرب) کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق ایسے خانوادہ سے تھا جو اصلا عرب تھا۔ جیسا کہ اسپین کے اکثر گھرانوں کا حال ہے ۔ عربی زبان سے اس کو اتنا شغف تھا کہ وہ اپنے نام کا تلفظ عربی لہجہ میں اس طرح کرتا تھا : الشیخ فرنسیشکو قدارة زيدين - امیر شکیب ارسلان اس کو کوڈ میرا کے بجائے قدیرہ کہتے تھے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues