A journey to hell and back again
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۶
جان سکتے ہیں۔ مگر کئی قسط میں چھپنے والا سفر نامہ بھی اتنا ہی نامکمل ہوتا ہے جتنا مذکورہ قسم کا ایک سفر نامہ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر بات غیر بند کورہے۔ بولے ہوئے تمام الفاظ اور لکھے ہوئے تمام مضامین اصل واقعہ کو بیان کرنے کے لئے اتنا ہی نامکمل ہیں جتنا ٹیلی فون کے پورے نظام کو بتانے کے لئے لفظ ”ٹیلی فون“ حقائق کی دنیا اس سے زیادہ ہے کہ الفاظ کا کوئی بھی ذخیرہ اس کو بیان کر سکے۔ اس دنیا میں آدمی صرف اپنے سوچنے کی صلاحیت سے باتوں کو جانتا ہے نہ کہ دوسروں کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ سے۔
مجھے ہر سفر میں کچھ ایسے تجربات ہوتے ہیں جن کو لفظوں میں لکھا جائے تو وہ لفظوں میں نہیں سماتے۔ اور اگر ان تجربات کو نہ لکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا سفر نامہ لکھا ہی نہیں گیا۔ یہ ایک اعتبار سے گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل جیسا معاملہ ہے۔ تاہم یہ ایک انسان کے احساسات ہیں ، اور اصل حقیقت کا علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں۔
اظہار حقیقت کا اصل مقام آخرت ہے۔ عین ممکن ہے کہ جب آخرت آئے تو کہا ہوا بے کہا بن جائے، اور جو بے کہا ہے، وہی کہا ہوا قرار پائے۔ انسان کے لئے صرف یہی سزا وار ہے کہ وہ اپنے عجز کا اقرار کرے اور مالک حقیقی سے رحمت ومغفرت کی دعا کرتا رہے۔ ISLAM: CREATOR OF THE MODERN AGE By Maulana Wahiduddin Khan Antiquity was an age of superstition: the present age is of science. Before reaching its present-day zenith, the modern, scientific age had to pass through three stages. The first was marked by the eradication of the superstitious mentality, the second saw the practical beginnings of scientific research; the third is the spectacular culmination of the scientific process in the second half of the twentieth century. The present volume examines the Islamic contribution to the completion of the first two stages during the millenium immediately following upon the emergence of Islam.
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues