Al-Risala · August 1995 · page 84

الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير

الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۸۴

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب عربوں اور مسلمانوں کو اسپین سے نکالا گیا تو ان کی تمام کتابوں کو یا جلا دیا گیا یا دریا میں بہا دیا گیا۔ مگر اسکور یال کے کتب خانہ میں قدیم عربی مخطوطات کی موجودگی اس کی کھلی ہوئی تردید ہے۔

اسکور یال سے اسپینی زبان میں ایک مجلہ نکلتا ہے ۔ اس کا نام الا سکوریال میگزین ہے۔ اس میں اکثر کسی نادر عربی مخطوطہ کی تحقیق ہوتی ہے۔ یا اندلس کے عرب سلاطین، وزراء، اطبا، شعراء، ادباء، فلاسفہ اور سائنس دانوں کے بارہ میں اسپینی اہل علم اور ریسرچ اسکالرس کے تحقیقی مقالات شائع کیے جاتے ہیں۔ مسجد قرطبہ ایک دریا کے کنارے واقعہ ہے جس کو وادی الکبیر (Guadalquivir) کہا جاتا ہے۔ اقبال نے اپنی نظم ”مسجد قرطبہ “ میں اس کے حوالے سے دو شعر کہے تھے جو یہاں قابل نقل ہیں :

آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا اقبال کا یہ خواب موجودہ زمانہ میں واقع بن رہا ہے۔ اب اسپین میں نئی اسلامی تاریخ بننا شروع ہوگئی ہے۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں جس عمل کا آغاز ہو جائے وہ آخر کار اپنی انتہاتک پہنچ کر رہتا ہے۔

اسپین کے سفر پر روانگی سے چند دن پہلے ڈاک سے مجھے ایک کتاب ملی ۔ ۸۵۴ صفحہ کی یہ انگریزی کتاب بمبئی (ہندو دیویک کیندر) سے چھپی ہے۔ اس کا نام ہے اسلام کا خطرہ : B.N. Jog, Threat of Islam: Indian Dimensions, 1, Purvanchal, Navghar Marg, Bombay 400081 اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام ساری دنیا کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ کیونکہ وہ دوسرے مذہب اور کلچر کے ساتھ پر امن طور پر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے اسلام کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، یعنی اسلام کا مکمل خاتمہ ۔ اس معاملہ میں ساری دنیا کو اسپین کے نمونہ کو اختیار کرنا ہے۔ اسپین نے اسلام اور

‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues

Printed page