الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۸۵
مسلمانوں کو مکمل طور پر اپنے یہاں سے خارج کر دیا۔ اسی طرح ہندوستان اور دوسرے ملکوں کو چاہیے کہ وہ ان کو اپنے یہاں سے خارج کر دیں۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ۔ یہ بات اس مفروضہ پر کہی گئی ہے کہ اسپین سے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے خارج کر دیا گیا ہے۔ حالاں کہ یہ بات واقعہ کے مطابق نہیں۔ پھر جو اسپین خود اسپین میں نہیں بنا وہ دوسرے کسی مقام پر کیسے بن جائے گا۔
مصنف نے بالواسطہ انداز میں اعتراف کیا ہے کہ ۱۹۲۵ میں آر ایس ایس کی تنظیم اسی خاص مقصد کے لیے بنائی گئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ ۷۰ سال کی لمبی مدت میں آر ایس ایس نے کیا کیا۔ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ۱۹۲۵ میں سارے برصغیر ہند میں مسلمانوں کی جو مجموعی تعداد تھی اس سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی آج صرف منقسم انڈیا میں ہے۔ گویا آر ایس ایس کی ساری کوششوں کے باوجود اسلام کا قافلہ برعکس سمت میں سفر کر رہا ہے۔
اب بیسویں صدی کے آخر میں جو لوگ اس قسم کی کتابیں چھاپ رہے ہیں وہ صرف نادانی کر رہے ہیں۔ کیوں کہ اب زمانہ مزید سفر کر کے ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے کہ انسان کو صرف دو قسم کی کتابیں پڑھنے سے دل چسپی ہے کیریر بنانے والی کتابیں یا تفریحی کتابیں۔ اور مذکورہ بالا کتاب یقینی طور پر ان دونوں میں سے کسی قسم میں نہیں آتی۔
یکم دسمبر کو یہاں سے واپسی کا دن تھا۔ صبح کو فجر کی نماز میڈ رڈ کے ہوٹل میں پڑھی۔ مسلم عہد میں میڈ رڈ کا علاقہ بھی مسلم سلطنت میں شامل تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر چہ ہوٹل کے اس کمرہ میں نہیں، مگر جہاں یہ ہوٹل کھڑا ہے، عین ممکن ہے کہ اس زمین پر اللہ کے کسی بندہ نے سجدہ کیا ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہاں کی فضائیں کسی مومن کی آہوں اور آنسوؤں کی امین ہوں۔
مسلم دور حکومت میں میڈ رڈ کا نام مجریت (majrit) تھا۔ یہی لفظ بدل کر اب میڈ رڈ بن گیا ہے۔ مسلم عہد کے ایک عالم فلکیات ابو القاسم مسلمہ (وفات ۱۰۰۷ء) میڈرڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ اسی لیے ان کو المجریتی کہا جاتا ہے۔
دور قدیم میں یہاں مسلمانوں کا ایک چھوٹا قلعہ تھا۔ یہ قلعہ اب میڈ رڈ میں موجود نہیں مگر آج وہاں اس سے زیادہ شاندار ایک اسلامک سنٹر کھڑا ہوا ہے جو سعودی عرب کے مالی تعاون سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues