الم تك معقلا للدين صعبا فذلله كما شاء المتبدير
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۸۷
ریاض کے اخبار العالم الاسلامی (۴ اکتوبر ۱۹۹۲) نے یہ خبر اس عنوان کے ساتھ شائع کی تھی کہ میڈرڈ میں اسلامی ثقافتی مرکز کا افتتاح اسپین اور مسلمانوں کے لیے فخر کی بات ہے ( افتتاح المركز الثقافى الاسلامى فى مدريد مَفخَرة لاسبانيا والمسلمين) اس سنٹر میں مسجد، ہال، کالج، لائبریری قائم کیے گئے ہیں۔ نیز یہاں سے اسپینی زبان میں لٹریچر اور میگزین شائع کیا جاتا ہے۔ اس کے ہال میں بیک وقت عربی، اسپینی، انگریزی زبانوں میں فوری ترجمہ کا انتظام ہے ۔ شاہ اسپین نے (المجلہ کی رپورٹ کے مطابق ) اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ اسپین اپنے مسلم ماضی پر فخر محسوس کرتا ہے ( اسبانيا تشعر با لفخر بما ضيها )
ہندوستان میں کچھ لکھنے اور بولنے والے مسلمان یہ انکشاف کرنے میں مشغول ہیں کہ ۱۹۴۷ سے پہلے کچھ ہندو لیڈر اسپین گئے ۔ اس سفر کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اسپین سے کس طرح مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا گیا۔ تاکہ آزادی ملنے کے بعد اسی عمل کو دہر اکر ہندوستان کو دوسرا اسپین بنایا جا سکے ۔ اسپین کی سڑکوں پر چلتے ہوئے مجھے یہ بات مضحکہ خیز حد تک بے معنی نظر آئی ۔ ظاہر ہے کہ اسپین سے مسلمانوں کا استیصال کوئی جاری عمل نہیں ہے جس کو کوئی شخص وہاں جا کر دیکھے۔ مسلمانوں کے خلاف جو کچھ بھی ہوا، وہ ماضی کا واقعہ ہے نہ کہ حال کا واقعہ ۔ آج کے اسپین میں کہیں بھی کوئی شخص یہ نہیں دیکھ سکتا کہ مسلمانوں کے مفروضہ خاتمہ کے لیے وہاں کیا کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ آج صرف لائبریریوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ اس کو اسپین کے محلوں اور شہروں میں ہوتا ہوا نہیں دیکھا جا سکتا۔
مزید یہ کہ آج کے اسپین میں جو شخص گھومے گا وہ بالکل برعکس تاثر لے کر واپس ہوگا۔ کیوں کہ آج وہ وہاں دیکھے گا کہ عبد الرحمن الاہل کو خود داخل اسپین نے دوبارہ تلوار بدست اپنی سر زمین پر کھڑا کر دیا ہے۔ وہ پائے گا کہ آج خود اسپین کی راجدھانی میں نہایت شاندار طور پر نئی مسجد اور نیا اسلامی مرکز بنایا گیا ہے ۔ اس طرح آج وہاں جانے والا آدمی جگہ جگہ ایسے واقعات سے دوچار ہو گا جو اس کو بتائیں گے کہ اسپین کی پچھلی نسل نے اگر مسلمانوں کے خلاف زیادتی کی تھی تو اسپین کی موجودہ نسل اس قدیم پالیسی کو چھوڑ کر آج مسلمانوں کا استقبال کر رہی ہے ۔ چنانچہ آج اسپین میں مسلمان قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں اور آزادانہ طور پر وہاں پر امن زندگی گزار رہے ہیں ۔
صبح ۹ بجے ہوٹل سے نکلا۔ میڈرڈ کے مختلف حصوں سے گزرتی ہوئی آخر کار ہماری گاڑی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues