Cordova, the brightest splendour of the world.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۹۰
نے سخت غلطیاں کی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ذہنی پس منظر اسلام کے مطابق نہیں۔ مثلاً پروفیسر ہیملٹن گب (1901ء - 1895ء) جو نسبتاً جدید مستشرق ہیں، وہ اچھی عربی جانتے تھے۔ انھوں نے حدیث میں پڑھا کہ بعثت بالحنیفیۃ السمحة - اس کے بعد انھوں نے اپنی کتاب محمدن ازم میں لکھ دیا کہ محمد نے اپنے مذہب کو پہلے حنیفیہ کہا تھا۔ بعد کو انھوں نے اس کا نام اسلام رکھا۔ اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ پروفیسر گب کا ذہنی سانچہ ارتقائی تصور کے تحت بناتھا نہ کہ اسلام کے تصور وحی کے تحت۔
اسپین میں مسلمانوں نے جس زمانہ میں شاندار تہذیب بنائی، اس زمانہ میں مواصلاتی ذرائع بہت محدود تھے۔ تاہم اس کی امتیازی خصوصیت کی بنا پر اس کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ جرمنی کی ایک خاتون شاعر راز و تھا (Hrosvitha) جو نن بھی تھی۔ وہ گینڈرشیم (Gandershsheim) میں ۹۲۵ء میں پیدا ہوئی، ۱۰۰۰ء میں اس نے انتقال کیا۔ اس جرمن شاعرہ نے غالباً اسپین کا سفر نہیں کیا تھا مگر قرطبہ کے بارہ میں اس نے بہت کچھ سُنا تھا۔ اس کی ایک لاطینی نظم میں قرطبہ کے بارہ میں یہ الفاظ تھے کہ دنیا کا سب سے زیادہ شان و شوکت والا شہر :
Cordova, the brightest splendour of the world.
فرانس کی جانب جرمنی کی سرحد پر ایک تاریخی شہر ہے جس کا نام لارین (Lorraine) ہے۔ یہ شہر ۹۲۵ء میں جرمنی کے قبضہ میں آیا۔ اس کے بعد کئی صدیوں تک وہ جرمنی کے قبضہ میں رہا۔ آج کل وہ فرانس میں شامل ہے۔
مسلم اسپین کے اثرات فرانس کے راستہ سے لارین تک پہنچے تھے۔ فلپ ہٹی نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے کہ دسویں صدی عیسوی میں عربی سائنس لارین پہنچی۔ اس کے اثر سے یہ علاقہ دو صدیوں تک ایک سائنٹفک سنٹر بنارہا۔ قریب کے دوسرے علاقے بھی عرب علم کو قبول کرنے کے لیے بہت زرخیز ثابت ہوئے۔ لارین سے یہ علم جرمنی کے دوسرے حصوں تک پہنچ گیا۔ جرمن بادشاہوں کے سفیر اسپین کے مسلم حکمرانوں کے دربار میں جانے لگے ۔ ۹۵۳ء میں عظیم جرمن بادشاہ آٹو اول (Otto I) نے جان نامی ایک شخص کو قرطبہ بھیجا۔ وہ وہاں تقریباً تین سال تک رہا۔ غالباً اُس نے عربی زبان سیکھی اور واپسی میں اپنے ساتھ عربی کی سائنسی کتابیں لے آيا۔ اس طرح اسپین کا عرب علم پورے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues