مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ ۹۰
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۹۱
مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ ۹۰
ایک اور مستشرق نے لکھا ہے کہ لیان یا نواری یا بارسلونہ کے مسیحی حکمرانوں کو جب بھی ایک سرجن یا آرکیٹیکٹ یا ماسٹر سنگر یا ڈریس میکر کی ضرورت ہوتی تو وہ قرطبہ سے اس کی درخواست کرتے تھے۔ مسلم راجدھانی کی شہرت جرمنی تک پہنچ گئی تھی جہاں ایک جرمن نن نے اس کو دنیا کا ہیرا (Jewel of the World) قرار دیا۔ (صفحہ ۵۲۷)
رلکے (Rainer Maria Rike) مشہور جرمن شاعر ہے۔ وہ ۱۸۷۵ء میں پیدا ہوا، اور ۱۹۲۶ء میں اس کی وفات ہوئی۔ جرمن مستشرقین نے جن عربی کتابوں کے ترجمے جرمن زبان میں کئے تھے اور اسلام پر جو کتابیں لکھی تھیں، ان میں سے کچھ کتابوں کو رلکے نے پڑھا۔ اس نے اگرچہ اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا مگر وہ اسلام سے متاثر تھا۔
ڈاکٹر عبد الرحمٰن بدوی نے رلکے پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ اس میں رلکے کے ایک خط کا عربی ترجمہ دیا گیا ہے۔ یہ ایک مفصل خط ہے۔ اس میں اس نے لکھا تھا کہ جب سے میں نے قرطبہ کا سفر کیا ہے، مجھ کو مسیحیت سے سخت بیزاری ہو گئی ہے۔ میں قرآن کو پڑھتا ہوں ۔ اس کے بہت سے مواقع پر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی چیز میرے دل کو چھورہی ہے۔ محمدؐ نے براہ راست خدائے واحد کی طرف راستہ کھولا ۔ یہاں انسان خدا سے بات کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسیحیت کی مثال ایسی ہے کہ انسان ہلو، ہلو کرتا رہے اور دوسری طرف سے کوئی آواز نہ آئے۔
اس طویل خط کے آخر میں مصنف لکھتے ہیں : فی ھذا النص الثمین یقرر رلکہ بعدالله للمسيحية و اعجابه بالاسلام (صفحہ ۱۲۷)
جرمنی سے جدید مسلم تاریخ کے بہت سے واقعات وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۴-۱۸) کے وقت دو عالمی محاذ بن گئے تھے۔ ایک الائیڈ پاورس کا محاذ جس کی قیادت برطانیہ کر رہا کر رہا تھا۔ دوسرا ایکس پاورس کا محاذ جس کی قیادت جرمنی کر رہا تھا۔
اس وقت ترکی میں عثمانی خلافت قائم تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ ترکی دونوں محاذوں میں سے کس کا ساتھ دے۔ اس نازک موقع پر مولانا محمد علی جوہر نے رات دن جاگ کر ایک لمبا مضمون لکھا جو ان کے انگریزی ہفت روزہ کامریڈ میں چھپا۔ اس میں انھوں نے ترکوں کو مشورہ دیا تھا کہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues