Al-Risala · January 1995 · page 37

منافقت کا کیس

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۷

منافقت کا کیس

٢٠ اگست ۱۹۹۱ کے اخبارات یہ ڈرامائی خبر لائے کہ ماسکوکی حکومت پر کٹر کمیونسٹوں نے قبضہ کرلیا اور پریذیڈنٹ میخائیل گوربا چیف کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ ہندوستان ٹائمس (۲۰ اگست) کے صفحہ اول کی پہلی سرخی کے الفاظ یہ تھے :

Hardliners oust Gorbachov

مگر ۴۸ گھنٹہ کے اندر تاریخ بدل گئی۔ ۔ مختلف اسباب ایسے پیدا ہوئے کہ گورباچوف کو کریمیا کی قید سے رہا کر کے دوبارہ ماسکو کے صدارتی محل میں پہنچا دیا گیا۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۲ اگست) کے صفحہ اول کی پہلی سرخی یہ تھی :

Gorbachov is back

ہندوستان ٹائمس (۲۵ اگست ۱۹۹۱) میں لاس اینجلس ٹائمس کے نامہ نگار مقیم ماسکو ڈیویڈرینک (David Remnick) کی رپورٹ چھپی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گورباچوف کے خلاف بغاو ت کا خاص لیڈر کے جی بی کا چیف ولادیمیر کرایو چکون (Vladimir Kryuchkov) تھا۔ برسوں کے دوران اس نے گورباچوف کا مکمل اعتماد کر لیا تھا۔ اور پھر وہی تھا جس نے گورباچوف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش کی قیادت کی :

For years, he had won Gorbachev's absolute trust, and then he led the plot to overthrow him. (p. 16)

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ذمہ دار کے خلاف جو لوگ بغاوت کرتے ہیں وہ اس کے انتہائی قریبی افراد ہوتے ہیں۔ اس کا راز منافقت ہے۔ منافق افراد مصنوعی طور پر وفاداری ظاہر کر کے قریب ہو جاتے ہیں۔ پہلے وہ وفاداری دکھا کر جگہ حاصل کرتے ہیں۔ پھر جب دیکھتے ہیں کہ اب بغاوت کرنے میں فائدہ ہے تو بغاوت کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ابتدائی مرحلہ میں ان کا کیس موقع پرستی کا کیس ہوتا ہے اور آخری مرحلہ میں ان کا کیس سرکشی کا کیس۔ منافقین کی یہ قسم تاریخ کے ہر دور میں پائی گئی ہے اور آج بھی پائی جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues

Printed page