مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ ۹۰
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۹۶
طرح داعی اگر اپنے مدعو کی رعایت نہ کرے تو وہ مدعو کو دور کرنے کا سبب بن جائے گا۔ ۳۰ نومبر کی رات کو لفتھانسا کی فلائٹ میں میرے لیے جو کھانا آیا، اس کی پیکنگ پر جرمن میں میرا نام چھپا ہوا تھا۔ اسی کے ساتھ جرمن اور انگریزی میں لکھا ہوا تھا کہ اپنی پسند کے کھانے کا لطف اٹھائیے : enjoy your meal دہلی میں رزرویشن کے وقت یہ لکھوا دیا گیا تھا کہ مجھے سفر میں انڈین ویجیٹیرین میل چاہیے۔ حسب قاعدہ یہ ہدایت ہر جگہ کے کمپیوٹر پر ریکارڈ ہو گئی۔ چنانچہ اس سفر میں آتے اور جاتے ہوئے میں نے چار جہاز استعمال کیے جو تین مختلف کمپنیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اور ہر ایک میں خود بخود " "اسپیشل میل " کے لیبل کے ساتھ میرا مطلوب کھانا میرے لیے آتا رہا۔ موجودہ جہاز جس میں میں نے فرینکفرٹ سے دہلی کا سفر کیا، اس میں تقریباً ساڑھے چار سو سیٹیں تھیں۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر اور انڈسٹریل تہذیب نے کیسا نظام بنایا ہے اور کس طرح وہ عالمی سطح پر نہایت صحت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یہ فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ ساڑھے سات گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد رات کو ڈیڑھ بجے ہمارا جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ یہاں جہاز سے نکل کر باہر جانے کے لیے آدمی ایک لمبی گیلری سے گزرتا ہے۔ ایک طرف یہ گیلری ہے اور دوسری طرف وسیع انتظار گاہ ہے۔ دونوں کے درمیان شیشہ کی دیوار حائل ہے۔ اس طرح دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ جس وقت میں گیلری سے دوسرے ہم سفر لوگوں کے ساتھ باہر کی طرف جا رہا تھا۔ اس وقت بہت سے لوگ انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے دکھائی دیے ۔ وہ وہاں اس انتظار میں تھے کہ آگے جانے والے جہاز سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو سکیں ۔
اس دنیا میں ہر اسٹیشن اور ہر ایئرپورٹ پر یہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ ہر وقت کچھ لوگ آتے ہیں اور کچھ لوگ واپس چلے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر آخرت کے اعتبار سے ہے۔ کچھ لوگ پیدا ہو کر دنیا میں آ رہے ہیں۔ کچھ اور لوگ اپنی مدت قیام پوری کر کے آخرت کی طرف واپس چلے جاتے ہیں، یہ آنا اور جانا اسی طرح جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے اور دو دنیاؤں کے نظام کو ختم کرکے صرف ایک دنیا کا نظام ابدی طور پر قائم کر دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues