مغربی یورپ میں پھیل گیا (صفحہ ۹۰
الرسالہ، اگست ۱۹۹۵، صفحہ ۹۵
کرتے ہیں جب کہ نیتا جی برما کے باتو پہاٹ آفیسرز ٹریننگ اسکول کی سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ دوسرا سوال و جواب یہ تھا : سوال : آپ کہتے ہیں کہ ہتھیار بند انقلاب کے بغیر ہندوستان آزاد نہیں ہو سکتا۔ تو سوال یہ ہے کہ ہتھیاروں کا انتظام کیسے ہوگا ؟
جواب : ہندوستان میں بہت سے ہتھیار پہلے ہی سے موجود ہیں۔ آپ لوگوں کا کام ان کو چھیننا اور ان کو اپنے استعمال میں لانا ہے۔ مثال کے طور پر میں چٹا گانگ کے اسلحہ خانہ کی ڈکیتی کا ذکر کرتا ہوں ۔ جس طرح وہاں سے ہتھیار چھینے گئے تھے اسی طرح اگر ہندوستانی کوشش اور ہمت کریں تو باہر سے ہتھیار لانے کی ضرورت نہ رہے گی۔
سوال : جاپانیوں نے ہماری سرکار کو تسلیم کیا ہے۔ ہمیں ہر طرح کی مدد بھی دے رہے ہیں، مگر وہ ہماری عزت نہیں کرتے ۔ ان کے سپاہی ہمارے افسروں کو سلوٹ تک نہیں کرتے۔ پورٹ ڈکسن میں جب ہم جاپانیوں سے ٹریننگ لینے گئے تھے تو ہم نے اپنے جاپانی انسٹرکٹر سے کہا کہ آپ ہمیں ایک آزاد حکومت کے افراد تسلیم کرتے ہوئے بھی ہمارے افسروں کی عزت نہیں کرتے ۔ جاپانی انسٹرکٹر نے جواب دیا کہ آپ کی آزاد حکومت آخر بنائی ہوئی کس کی ہے ؟ جواب : چند ایک افراد کے غلط رویہ اور بد دماغی کے کارن ہم سب جاپانیوں کو برا نہیں کہہ سکتے۔ (ہند سماچار ، جالندھر ، ۲۳ جنوری ۱۹۹۵)
فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے لفتھانسا کی فلائٹ نمبر ۷۰ ، کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز چلنا شروع ہوا تو اعلان کرنے والی خاتون نے خالص ہندی لہجہ میں یہ الفاظ کہے : لفتھانسا کی اس اُڑان پر ہم آپ کا ہار دک سواگت کرتے ہیں۔ لفتھانسا ایک جرمن کمپنی ہے۔ مگر اس کی موجودہ پرواز میں زیادہ تر ہندوستانی مسافر ہیں۔ اس لیے مسافروں کی رعایت سے انھوں نے کلام کا یہ انداز اختیار کیا۔ تاجر کو جو تعلق اپنے گاہک سے ہوتا ہے ، داعی کو وہی تعلق اپنے مدعو سے ہوتا ہے۔ لوگوں میں اگر دعوتی جذبہ آ جائے تو وہ اپنے مدعو کے لیے اسی طرح سراپا ہمدردی بن جائیں گے۔ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کی رعایت کریں گے۔ وہ اپنے جذبات سے زیادہ مدعو کے جذبات کا لحاظ کریں گے۔ تاجر اگر اپنے گاہک کی رعایت نہ کرے تو وہ اپنے گاہک کو کھو دے گا ، اسی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1995 All issues