دس اقوال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۶
حقیقت کی تلاش
لیوس کیرول (I.Lewis Carrol) ایک برٹش مصنف ہے۔ وہ ۱۸۳۲ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۹۸ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے بچوں کے لئے کچھ کہانیاں لکھی ہیں۔ یہ اتنی دلچسپ ہیں کہ اس کی کہانیوں کی ایک کتاب کو پڑھ کر چھ سال کے ایک بچہ نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ اس کی ۶۰ ہزار جلدیں ہوں :
he wished there were 60,000 volumes of it. (3/967)
تاہم لیوس کیرول ایک غمگین آدمی تھا۔ اس نے ساری عمر شادی نہیں کی۔ تنہائی میں زندگی گزار کر مر گیا۔ اس نے کہا کہ ۔ میں اس دنیا میں کیا ہوں ۔ اُف ، یہ ایک عظیم معمہ ہے : Who in the world am I? Ah, that’s the great puzzle. یہ اس دنیا میں ہر شخص کا مسئلہ ہے۔ کوئی زیادہ شدت کے ساتھ اس کو محسوس کرتا ہے اور کوئی کم شدت کے ساتھ ۔ تاہم کوئی بھی آدمی اس سوال سے خالی نہیں۔ عام جانوروں کا بنیادی مسئلہ صرف دو ہے، غذا اور تحفظ۔ جانور کو اگر یہ دو چیزیں مل جائیں تو اس کے بعد وہ نہایت سکون کے ساتھ سو جائے گا۔ مگر انسان کے اندر اسی کے ساتھ ایک اور چیز کی شدید طلب پائی جاتی ہے۔ اور وہ ہے زندگی کی حقیقت۔
فلسفہ اور سائنس جیسے علوم اس سوال کا تشفی بخش جواب نہیں دیتے۔ کیوں کہ فلسفہ اور سائنس کا علم تو خود انسان نے بنایا ہے۔ یعنی وہی انسان جو حقیقت کی تلاش میں سرگرداں ہے وہی ان علوم کو مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام علوم ناقص ہیں، اور ناقص علم سے کامل جواب حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
پیغمبرانہ الہام اسی سوال کا جواب ہے۔ جو آدمی اس کا مطالعہ کرے گا وہ اس میں اپنی طلب کا جواب پالے گا۔ پیغمبرانہ الہام خود اپنی ذات میں صداقت ہے۔ طالب کی بے آمیز فطرت کے سامنے جب یہ ربانی کلام آتا ہے تو خود اس کا اندرونی احساس یہ گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ عین وہی چیز ہے جو اس کی فطرت تلاش کر رہی تھی۔ پیغمبر کا الہامی کلام طالب کے لئے اپنی دلیل آپ بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues