نہرو رپورٹ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴
ایک ہی ڈھنگ پر شادی کی رسوم ادا کریں ، خواہ اس کے لیے باقاعدہ قانون کیوں نہ بنا دیا جائے۔ دستور کا کام قومی پالیسی کے بنیادی اصولوں کو متعین کرنا ہے نہ کہ نجی معاملات میں لوگوں کے انفرادی ذوق کو مٹا کر غیر ضروری طور پر یکسانیت لانے کی کوشش کرنا۔
تاہم جب کوئی چیز لکھ کر چھاپ دی جائے تو بہت سے لوگ اس کو واقعہ سمجھ لیتے ہیں، یہی حال دستور کی اس دفعہ کا بھی ہوا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس کا حوالہ دے کر مانگ کرتے رہتے ہیں کہ یکساں سول کوڈ کا دور لانے کے لیے پارلیمنٹ ایک قانون بنائے اور اس کو پورے ملک میں رائج کیا جائے۔
نہرو رپورٹ
پورے ملک کے لیے یکساں سول کوڈ بنانے کا ذہن کا فی پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غالباً اس کا اظہار سب سے پہلے ۱۹۲۸ میں نہرو رپورٹ کی صورت میں ہوا۔ نہرو رپورٹ حقیقتاً آزاد ہندوستان کے دستور کا ایک پیشگی ڈرافٹ تھا جس کو مشہور ماہر قانون موتی لال نہرو نے تیار کیا تھا۔ اس دستوری مسودہ میں تجویز کیا گیا تھا کہ آزاد ہندوستان میں شادی بیاہ کے معاملات کو یکساں ملکی قانون کے تحت لایا جائے گا۔ اس وقت علما نے اس کی سخت مخالفت کی۔ مزید یہ ہوا کہ اس وقت کی برٹش حکومت نے بھی اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس میں ہندوستان کے لیے درجہ مستعمرہ (dominion status) کی بات کہی گئی تھی جو انگریزوں کے لیے ناقابل قبول تھی۔
اس کے بعد دسمبر ۱۹۳۹ میں اس پر غور کرنے کے لیے کانگریس کا ایک اجلاس لاہور میں بلایا گیا۔ اس اجلاس نے اس کے عملی پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد نہرو رپورٹ کو رد کر دیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ۱۹۸۵ سے یکساں سول کوڈ کے مسئلے نے نئی قانونی اہمیت اختیار کر لی جب کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے اس کے حق میں اپنی رائے دینا شروع کر دیا۔
اس معاملہ میں عدالتی بحث کا آغاز سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق چیف جسٹس مسٹر وائی وی چندراچوڑ کے فیصلہ سے ہوتا ہے۔ ۱۹۸۵ میں انھوں نے محمد احمد۔ شاہ بانو کیس میں اپنا مشہور فیصلہ دیا تھا۔ اس فیصلہ میں اصل زیر بحث معاملے سے تجاوز کرتے ہوئے انھوں نے یہ کہنے کی بھی ضرورت محسوس کی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues