Al-Risala · September 1995 · page 5

نہرو رپورٹ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۵

کہ دستور کی دفعہ ۴۴ کے تحت قانون بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ اور یہ کہ ایک کامن سول کوڈ قومی ایکتا کو لانے میں مددگار ہوگا :

a common civil code will help the cause of national integration. اس کے بعد اسی ۱۹۸۵ میں سپریم کورٹ کے جٹس چن نپا ریڈی نے ایک کیس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ایک اور مثال ہے جو اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ یکساں سول کوڈ ہماری فوری اور ناگزیر ضرورت بن چکا ہے :

The present case is yet another which focuses...on the immediate and compulsive need for a uniform civil code. یہی بات زیادہ مفصل اور تاکیدی انداز میں سپریم کورٹ کی دو رکنی ڈویژن بنچ نے مئی ۱۹۹۵ میں اپنے متفقہ فیصلہ میں کہی ہے۔ اس کے ممبران جسٹس کلدیپ سنگھ اور جسٹس آر ایم سہائے تھے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دستور کی دفعہ ۴۴ کے مطابق ، یونیفارم پرسنل لا کو نافذ کرنا قومی استحکام کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ اس کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کہ کسی بھی وجہ سے ملک میں یونیفارم پرسنل لا کے نفاذ میں تاخیر کی جائے :

to introduce a uniform personal law (is) a decisive step towards national consolidation... There is no justification whatsoever in delaying indefinitely the introduction of a uniform personal law in the country (p. دستور کی دفعہ ۴۴ یہ ساری باتیں دستور کی دفعہ ۴۴ کے حوالے سے کہی جارہی ہیں۔ یہ دفعہ دستور ہند کے چوتھے حصہ میں ہے۔ یہ حصہ اسٹیٹ پالیسی کے لیے رہنما اصولوں (directive principles) کی حیثیت سے دستور میں داخل کیا گیا ہے۔ اس کی دفعہ ۳۷ میں یہ صراحت ہے کہ اس حصہ میں جو دفعات درج کی گئی ہیں وہ کسی بھی عدالت کے ذریعہ قابل نفاذ نہیں ہیں۔ اس کا تعلق تمام تر حکومت اور ریاست سے ہے۔ ایسی حالت میں سپریم کورٹ کے ججوں کا بار بار دفعہ ۴۴ کے حوالے سے یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ چھیڑنا ایک ایسے مسئلہ میں دخل دینا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ جنتا دل نے اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page