نہرو رپورٹ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۶
فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے (دی پاینیر ۵ مئی ۱۹۹۵) اس کو اپنی حد سے گزر کر پارلیمنٹ کی حد میں داخل ہونا قرار دیا : It is a judicial trespass on Parliament's jurisdiction. اسی پس منظر میں دی ہندوستان ٹائمز (۱۲ مئی ۱۹۹۵) نے اپنے ایڈیٹوریل میں فیصلہ پر تبصرہ کا آغاز اس جملہ سے کیا تھا کہ ________ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے حالیہ برسوں میں بار بار یہ رجحان ظاہر کیا ہے کہ وہ ایسے مقامات میں گھس پڑتی ہے جہاں داخل ہونے سے فرشتے بھی گھبراتے ہیں : India's Supreme Court in recent years has displayed a penchant for rushing into terrain that angels fear to tread. خود دستور کے مطابق ، یونیفارم سول کوڈ کو ایکٹ کی صورت دینے کا تعلق تمام تر حکومت سے ہے۔ اور حکومت کا حال یہ ہے کہ ۱۹۵۶ میں اس وقت کے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے صاف طور پر کہا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ میں اس کو تکمیل تک پہنچاؤں : I do not think that at the present moment the time is ripe in India for me to try to push it through. یہی بات اس کے بعد اندرا گاندھی نے بھی کہی۔ اور اب موجودہ پرائم منسٹر پی وی نرسمہا راؤ نے بھی یہی بات کہہ دی ہے (ٹائمز آف انڈیا، نئی دہلی ، ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ ، صفحہ)، اب یہ بڑی عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو عملاً یونیفارم سول کوڈ لانا ہے وہ تو اس سے بے تعلقی ظاہر کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اختیار میں سرے سے اس کا معاملہ نہیں وہ اس کے حق میں پر جوش تقریریں کر رہے ہیں۔ اس قسم کی لفظی کارروائی صرف وقت کا ضیاع ہے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ مذہبی آزادی ایک لازمی حق جو لوگ دستور کی دفعہ ۴۴ کا حوالہ دے کر یونیفارم سول کوڈ کی وکالت کرتے ہیں۔ انھوں نے غالباً اس پر بہت کم غور کیا ہے کہ خود اسی دستور کی دفعہ ۲۵ میں اس کی تردید موجود ہے۔ دستورِ ہند کی دفعہ ۲۵ میں ہندوستان کے ہر شہری کو ضمیر اور مذہبی عمل اور مذہبی تبلیغ کی پوری آزادی دی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تمام افراد مساوی طور پر آزادی ضمیر کا حق رکھتے ہیں۔ ان کو حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر مذہب کا اقرار کریں، اس پر عمل کریں اور اس کی تبلیغ کریں :
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues