تین منٹ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۵، صفحہ ۶
تین منٹ
سید امتیاز الدین دسنوی ایک انجینئر ہیں۔ ۱۹۷۶ میں وہ سروس کے تحت ضلع پونہ کی ایک بستی لونولہ (Lonvla) میں تھے۔ ایک روز جب کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے، سڑک پر شور وغل کی آواز آئی۔ ہندوؤں کا ایک جلوس مسجد سے ملی ہوئی سڑک سے گزر رہا تھا۔ مسجد کے سامنے پہنچ کر وہ لوگ ٹھہر گئے اور زور زور سے باجا بجانے لگے۔ تراویح میں ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جاتا ہے۔ چنانچہ امام صاحب نے جب دو رکعت پوری کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا تو اچانک نمازی غصہ ہو گئے۔ کچھ لوگ اٹھنے لگے کہ جا کر جلوس والوں سے کہیں کہ یہ مسجد ہے، یہاں شور نہ کرو، آگے جاؤ۔ سید امتیاز الدین صاحب نے کہا کہ چند منٹ بیٹھ کر آپ ذکر کر لیجئے، یہ لوگ اپنے آپ یہاں سے چلے جائیں گے۔ چنانچہ تمام نمازی خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ ۲۰ مارچ ۱۹۹۴ء کی ملاقات میں سید تمیز الدین صاحب نے بتایا کہ مشکل سے تین منٹ گزرے ہوں گے کہ آواز کم ہونے لگی اور تھوڑی دیر میں بالکل ختم ہوگئی۔ جلوس صرف تین منٹ مسجد کے سامنے ٹھہرا۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ ہی آگے چلا گیا۔
اس کے برعکس اگر کچھ مسلمان سڑک پر آ کر روک ٹوک کرنے تو وہ لوگ ضد میں پڑ جاتے۔ اب دونوں طرف سے اصرار بڑھتا۔ یہاں تک کہ جلوس کا مسئلہ دونوں کے لئے وقار کا مسئلہ بن جاتا۔ اس کے بعد معاملہ اور آگے بڑھتا اور آخر کار وہ چیز ظہور میں آجاتی جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔ ایک طرف مسجد کی تراویح ادھوری رہ جاتی۔ دوسری طرف بستی آگ اور خون کے طوفان میں نہا اٹھتی۔
اسی قسم کا برعکس واقعہ ۱۹۸۰ میں مراد آباد میں پیش آچکا ہے۔ رمضان کے مہینہ میں غیر مسلموں کا جلوس مسجد کے سامنے آگیا اور باجا بجانے لگا۔ مسجد میں جو مسلمان نماز کے لئے جمع تھے وہ تین منٹ کے صبر پر راضی نہیں ہوئے۔ باہر نکل کر انھوں نے جلوس کو روکنا شروع کیا۔ اس کا انجام مراد آباد کو بھیانک فساد کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امن اور فساد کے درمیان صرف تین منٹ کا فاصلہ ہے۔ اگر آپ تین منٹ کے اشتعال کو برداشت کر لیں تو ہر طرف امن ہی امن ہوگا، اور اگر آپ تین منٹ کے اشتعال کو برداشت نہ کریں تو ہر طرف فساد ہی فساد۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1995 All issues