Al-Risala · September 1995 · page 35

کل کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۵

کل کا مسئلہ

پاکستان میں اس وقت مسز بے نظیر بھٹو وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز ہیں۔ اور میاں محمد نواز شریف اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔ دونوں رات دن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ لاہور کے روز نامہ نوائے وقت ( ۲۵ اپریل ۱۹۹۵) کے صفحہ اول پر ایک خبر کی سرخی یہ ہے کہ: کل سے ڈریں، کل بہت قریب ہے۔

اسلام آباد کی ڈیٹ لائن کے ساتھ خبر میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ آنے والے کل سے ڈریں اور اپنے مستقبل کی فکر کریں کیوں کہ اب کل کا دن بہت نزدیک ہے۔ ہم پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اس سلسلہ میں ہمارا عزم آسمان سے بھی بلند ہے۔ ہم پاکستان کا مستقبل بچانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

اس خبر میں ایک سیاسی لیڈر دوسرے سیاسی لیڈر کو جس "کل" سے ڈرا رہا ہے وہ آخرت کا کل نہیں ہے، بلکہ اسی دنیا کا سیاسی کل ہے۔ اس انتباہ کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمارے خلاف کارروائیوں سے باز آجاؤ، ورنہ ہم اتنی او دھم مچائیں گے کہ تمہاری حکومت ہی گر جائے ۔ اگر آخرت کے کل کا مسئلہ ہو تو ہر آدمی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے گا۔ کوئی شخص جب دوسرے کو ڈرائے گا تو عین اسی وقت وہ خود بھی ڈر رہا ہو گا ۔ مگر دنیا کے کل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں جب ایک شخص دوسرے آدمی کو ڈرا تا ہے تو اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میں محفوظ سمت میں ہوں۔ آنے والا کل دوسرے کے لئے مسئلہ ہے۔ وہ میرے لئے کوئی مسئلہ بننے والا نہیں۔

سیاسی کل کا نظریہ لوگوں میں سرکشی کا جذبہ ابھارتا ہے، اور اخروی کل کا عقیدہ لوگوں میں تواضع پیدا کرتا ہے۔ سیاسی کل کے پیچھے دنیا پرستی ہے اور اخروی کل کے پیچھے دنیا سے بے رغبتی۔ سیاسی کل خود غرضی کی پیداوار ہے اور اخروی کل ربانیت کی پیداوار۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues

Printed page