کل کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۸
انھوں نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ فنڈ مینٹلزم کا مطلب اگر بنیادی تعلیمات کی طرف واپسی ہو تو وہ اسلام کے خلاف نہیں۔ لیکن اگر اس کا مطلب انتہا پسندی اور جنگجوئی ہو تو یقینی طور پر وہ غیر اسلامی اور قابل ترک ہے۔
مسٹر جینیا وان ڈائلک (Virginia Van Dyke) امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی میں ریسرچ کر رہی ہیں۔ ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کا موضوع ہے :
Religious leaders in politics --- alternative sources of political mobilisation اس سلسلہ میں وہ ۲۹ مارچ ۱۹۹۵ کو مرکز میں آئیں اور مذکورہ موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ ہندوستان کی تاریخ میں ایک نقطہ انقلاب تھا۔ اب ہندو اور مسلمان دونوں میں نیا سیاسی شعور جاگا ہے۔ قدیم طرز کی جذباتی سیاست کا دور اب ملک میں ختم ہو رہا ہے۔ اس کی ایک علامت یہ ہے کہ بابری مسجد کے اشو پر مسلم لیڈر مسلمانوں کو موبیلائز کرنے میں ناکام ہیں۔ اسی طرح ہندو لیڈر دوسری مسجدوں کے اشو پر ہندوؤں کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔
انگریزی پندرہ روزہ نیشن اینڈ دی ورلڈ کے نمائندہ مسٹر آصف عمر نے ۳۰ مارچ ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ جو لوگ ہمارے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو سرینڈر کرنے کے لئے کہتے ہیں ، وہ ہمارے اوپر ایک جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ ہم ہمیشہ ریلسٹک اپروچ اختیار کرنے کی بات کرتے ہیں نہ کہ سرینڈر کرنے کی۔ اس لئے جس کو تنقید کرنا ہے وہ ہماری اصل بات پر تنقید کرے نہ کہ ایک جھوٹی بات کو ہماری طرف منسوب کرے اور پھر اس کی روشنی میں ہمارے خلاف بے بنیاد رائے زنی کرے۔
بھارت و کا س پر یشد کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے راجستھان را دور سے پورا، ۲۷ اثر سال ستمبر ۱۹۹۵
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues