کل کا مسئلہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۳
بھیل واڑہ) کا سفر کیا۔ وہاں 31 مارچ۔ یکم اپریل 1995ء کو مختلف خطاب کئے اور ملاقاتیں کیں۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔ سری ستیہ سائی سیوا سمیتی کی طرف سے نوئیڈا (دہلی) میں ایک سرو دھرم سمیلن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ منتظمین کی طرف سے ان کے لئے اسلام کے اصول (Tenets of Islam) کا موضوع مقرر کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس موضوع پر تقریبا آدھ گھنٹہ تک خطاب کیا۔
مولانا جمیل صاحب نے مدراس سے اطلاع دی ہے کہ الرساله میں شائع شدہ مقالہ اسلام میں عدل اجتماعی" تامل زبان میں ترجمہ کرکے شائع کیا گیا ہے۔ اس کو تمل دانشوروں اور حقوقِ انسانی کے لئے جدوجہد کرنے والے لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ الحمد للہ اس کے بہت اچھے اثرات سامنے آرہے ہیں۔
19 اپریل 1995ء کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک میٹنگ ہوئی۔ یہ میٹنگ مسٹر دھو ہتا کی صدارت میں ہندوستانی اندولن کے زیر اہتمام ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ہندوستان کے مستقبل کی تعمیر پر اپنے خیالات پیش کئے ۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ سسٹم میں تبدیلی کے بجائے انسان میں تبدیلی لانے پر محنت صرف کرنا چاہئے۔ ہندی ہفت روزہ پانچ جنیہ کے نمائندہ مہاراج کرشن بھارت نے 19 اپریل 1995ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق حج کی عبادت سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حجر اسود کی کوئی مشابہت بت سے نہیں ہے۔ بت کی پرستش اسلام میں اس لئے منع ہے کہ اس میں نافع اور ضار کا تصور ہوتا ہے۔ جب کہ حجر اسود کو نہ نافع و ضار مانا جاتا اور نہ کوئی حاجی اس کے آگے جھکتا۔ کعبہ میں حضرت ابراہیم کے زمانہ کی واحد چیز صرف حجر اسود ہے۔ اس لئے اس کو پیغمبر کی تاریخی یادگار سمجھ کر چومتے ہیں، اور کسی چیز کو چومنا اسلام میں ناجائز نہیں۔ چومنا اور پرستش کرنا دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے زیر اہتمام جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1995 All issues