گھر سے محرومی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۶
گھر سے محرومی
۲۸ مارچ ۱۹۹۵ کو دہلی میں ایک بڑا دردناک واقعہ ہوا۔ مسنر اندو واہی (٦١ سال) نے کستوربا گاندھی مارگ کی بلڈنگ ایشیا ہاؤس، کی آٹھویں منزل سے کود کر خود کشی کرلی۔ نیچے آتے ہی ان کا پورا جسم کچل اٹھا اور فوراً ہی ان کا انتقال ہوگیا۔
مسنر اندو واہی آل انڈیا ریڈیو کے ہندی شعبہ میں چیف نیوز ریڈر تھیں۔ پچھلے سال ان کو وہاں سے ریٹائر منٹ مل گیا۔ ایشیا ہاؤس ایک سرکاری بلڈنگ ہے۔ اس کی پہلی منزل پر ان کو دو کمروں کا ایک فلیٹ برائے رہائش ملا ہوا تھا۔ ریٹائر منٹ کے بعد اب انھیں یہ فلیٹ خالی کرنا تھا جس میں وہ پچھلے ۲۰ سال سے رہ رہی تھیں۔ فلیٹ چھوڑنے کی آخری تاریخ ۳۱ مارچ تھی۔ ان کے شوہر کا انتقال ۱۹۸۹ میں ہوگیا تھا۔ اب وہ اپنی بیٹی سونیا اور اپنے داماد اشوک کمار کے ساتھ یہاں رہ رہی تھیں (ہندوستان ٹائمس ۲۹ مارچ ۱۹۹۵)۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اندو واہی بہت پریشان تھیں۔ انھوں نے اگرچہ جنک پاری کی ویڈیو کالونی میں اپنا ایک گھر بنا لیا تھا۔ مگر ان کو یہ خیالی پریشان کئے ہوئے تھا کہ موجودہ سرکاری فلیٹ کناٹ پلیس کے علاقہ میں ہے اور اس کی وجہ سے انھیں بہت سی سہولتیں حاصل ہیں مگر جمنار پار جانے کے بعد وہ ان شہری سہولتوں سے محروم ہو جائیں گی۔ یہ احساس ان پر اتنا زیادہ طاری ہوا کہ ایشیا ہاؤس کی آخری منزل پر چڑھ کر انھوں نے خود کشی کی چھلانگ لگادی۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو اچانک میری زبان سے نکلا کہ ــــــــ انسان آج اچھے گھر کو چھوڑ کر معمولی گھر میں جانے کو برداشت نہیں کر پاتا۔ اس دن انسان کا کیا حال ہوگا جب وہ ہر قسم کے گھر سے محروم کر دیا جائے گا۔
انسان خود کشی نہ کرے تب بھی اس پر موت آنی ہے۔ موت کے بعد اچانک وہ محسوس کرے گا کہ اس کا تمام اثاثہ اس سے چھن چکا ہے۔ اس دن تمام گھر والے بے گھر ہو چکے ہوں گے۔ اس دن گھر والا صرف وہ ہوگا جس سے خدا خوش ہو اور اپنی طرف سے اس کو ایک گھر عطا کرے اور اس کو اپنی جنت میں قیام کی اجازت دیدے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues