نتیجہ خیز کام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۷
نتیجہ خیز کام
۱۹۱۷ میں مصری عدالت کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا۔ معاملہ یہ تھا کہ مصر کے ایک عالم نے یہ کہہ دیا تھا کہ نوح علیہ السلام ہی پہلے نبی تھے۔ کیوں کہ آدم کا ذکر قرآن میں نبی اور رسول کی حیثیت سے نہیں کیا گیا ہے۔ اس رائے پر کچھ لوگ غصہ ہو گئے۔ ایک شخص نے قاہرہ کی شرعی عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ اس عالم نے ایک معلوم دینی حقیقت کا انکار کیا ہے۔ اس لئے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرا دی جائے۔ اور اس پر ارتداد کی سزا نافذ کی جائے۔ شرعی عدالت نے دعویٰ کو تسلیم کرتے ہوئے مذکورہ عالم کے خلاف فیصلہ دیدیا۔ اس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ شخص مرتد ہے اور اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو گئی۔
مگر اس کے بعد مقدمہ عدالت اپیل (court of appeal) میں گیا، اور عدالت اپیل نے ابتدائی فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا :
اختجلتمونا امام الناس اعظم خجل ۔ تم نے لوگوں کے سامنے ہم کو بہت زیادہ شرمندہ فالافرنج مشتغلون بما يفيد هم کیا ۔ فرنگیوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان چیزوں میں وانتم مشغولون بما لا يفيد ۔ مشغول ہیں جو ان کے لئے مفید ہیں اور تم ایسی (المجلد ، عدد ۱۶۰ - ۲۲ جولائی ۱۹۹۵ ، صفحه ۳۵) چیزوں میں مشغول ہو جن کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس واقعہ پر اب ۸۰ سال گزر چکے ہیں۔ مگر تمام دنیا کے مسلمان آج بھی مزید اضافہ کے ساتھ اسی قسم کے بے فائدہ کاموں میں مشغول ہیں۔ حالاں کہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ آدمی بے فائدہ کام کو چھوڑ دے۔ (من حسن اسلام المرء تركه مالا يعنيه)
حقیقت یہ ہے کہ عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ صرف وہ کام کیا جائے جو حقیقی معنوں میں نتیجہ خیز ہو۔ آدمی وہی بات سوچے جس کی کوئی افادیت ہو۔ وہ وہی بات بولے جس میں کوئی خیر ہو۔ وہ وہی کام کرے جس کا کوئی مثبت انجام نکلنے والا ہو۔ وہ وہی اقدام کرے جو کوئی بہتر مستقبل پیدا کرنے والا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues