Al-Risala · October 1995 · page 19

ایک شرعی اصول

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۹

ایک شرعی اصول

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگ پکورتے ہیں تم ان چیزوں کو برا نہ کہو، ورنہ وہ لوگ اللہ کو برا کہنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو مزین کر دیا ہے (الانعام ۱۰۸)

اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے عمل کا نتیجہ رخی (result-oriented) عمل ہونا چاہیے ۔ ہر اقدام سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اگر نتیجہ غیر مطلوب نکلنے والا ہو تو اقدام سے پر ہیز کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو عمل الٹا نتیجہ والا (counter-productive) ثابت ہو، وہ عمل اسلام میں جائز نہیں۔

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیسے کوئی شخص اپنے باپ کو گالی دے گا، آپ نے فرمایا کہ تم کسی شخص کے باپ کو گالی دو گے پھر وہ تمہارے باپ کو گالی دے گا۔ تم کسی کی ماں کو گالی دو گے پھر وہ تمہاری ماں کو گالی دے گا۔ اسی بنا پر فقہ میں ایک مستقل مسئلہ بنا ہے جس کو ترک المصلحة للمفسدة کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک بظاہر مطلوب کام کو اس لیے چھوڑ دینا کہ اس کے کرنے سے زیادہ بڑا بگاڑ پیدا ہوگا۔ (تفسیر ابن کثیر ۲ / اس شرعی اصول کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے وہ تمام اقدامات غیر اسلامی قرار پاتے ہیں جن کو جہاد کے نام پر شروع کیا گیا ۔ کیونکہ ان اقدامات کا نتیجہ زبر دست تباہی کی صورت میں نکلا ۔ اقدام جہاد سے پہلے مسلمانوں کو جو کچھ حاصل تھا وہ بھی ان سے کھویا گیا اور مزید کوئی چیز انہیں حاصل نہ ہو سکی۔ ایک اعتراض مذکورہ بات کے سلسلہ میں اکثر مسلم دانشور یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بات جو آپ کہہ رہے ہیں، یہ تو مسیحی نقطہ نظر ہے جو انفعالیت پر قائم ہے ۔ اسلام تو ایک انقلابی دین ہے جو فعالیت میں یقین رکھتا ہے۔ مگر یہ کچھ افراد کی محض ذاتی ریز نگ ہے۔ ہم نے جو بات کہی ہے وہ قرآن و حدیث کے حوالے سے کہی ہے ۔ وہ مکمل طور پر شرعی نصوص پر مبنی ہے ۔ جب کہ معترض حضرات کی بات تمام تر ذاتی ریز نگ پر مبنی ہے۔ اور کسی کی ذاتی ریز نگ شرعی نصوص کا بدل نہیں بن سکتی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page