Al-Risala · October 1995 · page 20

ایک شبہ کا ازالہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۰

مسلم دانشوروں میں ایک بالکل بے بنیاد خیال یہ پھیلا ہوا ہے کہ اسلام ایک ارتقا یافتہ مذہب ہے، اور دوسرے مذاہب غیر ارتقا یافتہ مذاہب ہیں۔ حالانکہ یہ بات صریح اسلامی نصوص کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق، ہر پیغمبر کو ایک ہی دین دیا گیا۔ اسلام اور دوسرے مذاہب میں غیر محرف اور محرف کا فرق ہے نہ کہ ارتقائی اور غیر ارتقائی کا۔

مثال کے طور پر مسلم خطباء اکثر حضرت مسیح کے اس قول کا استخفاف کرتے ہیں کہ پس جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو (متی ٢٢ : ٢١) حالانکہ یہ مخصوص حالات کے اعتبار سے ایک حکیمانہ ہدایت ہے اور وہ خود اسلام میں عین اسی طرح موجود ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے جس کو بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : انکم سترون بعدی اثَرَةً واموراً میرے بعد تم لوگ (حکمرانوں میں) خود غرضی اور منکر تُنكرونها ۔ قالوا فما تأمرنا يا رسول اللہ ۔ چیزیں دیکھو گے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے خدا کے قال : ادُّوا اليهم حقهم و سلُوا الله رسول ، پھر اس وقت کے لیے آپ ہم کو کیا حکم دیتے حقكم ۔ ہیں۔ آپ نے فرمایا ۔ ان کو ان کا حق ادا کرو اور اللہ سے اپنا حق مانگو ۔

(مشکاة المصابیح ٢ / ١٠٨٦)

ایک شبہ کا ازالہ

مذکورہ شرعی اصول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شریعت اہل اسلام کو قانع حال (statusquoist) بنا دینا چاہتی ہے۔ شریعت کے اس حکم کا مقصد دراصل نازک صورت حال میں اپنے عمل کے لیے نقطہ آغاز (starting point) حاصل کرنا ہے۔ نزاعی صورت حال میں اگر رد عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ البتہ عملی طور پر ٹھہراؤ (statusquoism) کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں اہل اسلام سامنے کی چٹان سے ٹکراتے رہیں گے۔ وہ آگے بڑھنے کے لیے اپنا راستہ نہ پاسکیں گے۔

اس لیے شریعت نے اہل اسلام کو مذکورہ حکم دیا۔ یعنی وہ حالات کے ناموافق پہلو پر صبر کریں تاکہ وہ حالات کے موافق پہلو کو استعمال (avail) کر سکیں۔ یہ قانون قدرت ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کے لیے کچھ موافق پہلو اور کچھ ناموافق پہلو دونوں بیک وقت موجود ہوں ۔ موافق پہلو کو استعمال کرنے کی واحد قیمت ناموافق پہلو کو برداشت کرنا ہے۔ مذکورہ شرعی حکم دراصل اسی قیمت کو ادا کرنے کی ایک صورت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues

Printed page