Philip K. Hitti, 'History of Arabs, p. 605
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۷
حیثیت حاصل کرلی۔ یہ دنیا انقلابات کی دنیا ہے۔ یہاں کوئی صورتحال پیش آنے پر نہ کسی کے لئے فخر کا موقع ہے اور نہ کسی کے لئے مایوسی کا۔ ہر فخر یہاں آخر کار ٹوٹ جاتا ہے ۔ اور ہر مایوسی آخر کار امید کے نئے واقعہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یورپ میں جو ابتدائی میڈیکل کالج قائم ہوئے ان میں سے ایک میڈیکل کالج وہ ہے جو پندرہویں صدی عیسوی میں اٹلی کے شہر سلرنو (Salerno) میں قائم کیا گیا۔ اس میں ابوالقاسم (Abulcasis) کی کتاب بطور نصاب داخل کی گئی۔
ابوالقاسم الزہراوی (۱۰۶-۱۰۳۰) مشہور ترین عرب سرجن ہے۔ اس کا تعلق قرطبہ سے تھا ۔ اس کی کتاب التصریف لمن عجز عن التالیف کا لاطینی ترجمہ گیرارڈ آف کریمونا نے کیا تھا۔ وہ ۱۵۷۹ میں وینس سے چھپا۔ اس کے بعد ۱۵۴۱ میں بیسل سے اور ۱۷۷۸ میں آکسفورڈ سے شائع ہوا۔ یہ کتاب صدیوں تک یورپ کے طبی اداروں میں خصوصی اہمیت کے ساتھ پڑھائی جاتی رہی ہے۔
ایک مستشرق کے الفاظ میں، الزہراوی کی اس کتاب کو یورپ میں اتنی زیادہ اہمیت حاصل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس میں فن سرجری کے بارہ میں نئے خیالات (new ideas) موجود تھے۔ جو اس وقت کی کسی کتاب میں نہیں پائے جاتے تھے۔ اس دنیا میں نئے پن کی قیمت ہوتی ہے۔ جو شخص کوئی نیا تخلیقی آئیڈیا پیش کرے، وہ لازمی طور پر لوگوں کے درمیان قبولیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔
ایک مسلم میگزین میں میں نے پڑھا کہ "اسلام اٹلی کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے ۔ یہ بظاہر بہت بڑی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت میں وہ اتنی بڑی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اٹلی کی ۵۷ ملین آبادی میں کیتھولک عیسائیوں کا تناسب ۹۸ فیصد ہے۔ دو فیصد میں پروٹسٹنٹ عیسائی اور یہودی وغیرہ ہیں۔ اس دو فیصد آبادی میں مسلمانوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، ان کی آبادی ملک میں تقریباً چار لاکھ ہے۔ اطالوی مسلمان زیادہ تر شمالی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں یہاں آئے تھے۔
دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں جرمنی، اٹلی اور جاپان نے ایک مشترک محاذ بنایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1995 All issues