اسلام مذہب امن
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱۴
ناموں کو پسند کرتے تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام کو معلوم ہوا تو آپ نے حرب نام کو پسند نہیں کیا۔ آپ نے کہا کہ اس کے بجائے تم بچہ کا نام حسن رکھو۔
اس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ آپ پورے معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ آپ کی امن پسندی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ آپ حرب جیسا لفظ سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آپ تشدد میں نہیں بلکہ حسن اخلاق میں یقین رکھتے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم انقلاب لے آئے۔ مگر یہ انقلاب امن کی قوت سے برپا کیا گیا نہ کہ جنگ کی قوت سے۔ اگر کبھی آپ نے جنگ کی تو وہ مجبورانہ دفاع کے طور پر تھی نہ کہ آپ کی اپنی پسند اور آپ کے اپنے انتخاب کے تحت۔
امن آپ کی زندگی کا ایک عمومی اصول تھا اور جنگ صرف ایک اتفاقی استثناء ۔ چنانچہ اپنی ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ نے صرف تین لڑائی لڑی (بدر، احد، حنین)، یہ تینوں لڑائیاں دفاعی تھیں اور ان میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ دن صرف ہوئے۔
زید بن مہلہل نجْد میں بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ وہ زید الخیل کے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے نیز گھوڑے سے سوار کو کہتے ہیں۔ انھوں نے اسلام سے پہلے فارس (شہ سوار) اور شمشیر زن کی تعریف پر ایک پرجوش نظم کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارہ میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکا دیا ہو : و قومي رؤوس الناسِ والرأسُ قائدُ اذا العربُ شَبَّتْهَا الأَلُفُ المساعِرُ زيد الخيل ، ہجرت کے بعد مدینہ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔ ۹ھ میں مدینہ میں ان کا انتقال ہوا۔
یہ واقعہ اسلام کی اسپرٹ کو بتاتا ہے۔ اسلام دین رحمت ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو زید شہ سوار بنانا نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی زید صاحب خیر بنے۔ قدیم ۱۲ الرسلہ - نومبر ۱۹۹۵
‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues