Al-Risala · November 1995 · page 215

اسلام مذہب امن

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۲۱۵

عرب میں گھوڑا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا، ہیرو آنہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش کریں۔

آجکل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مقصد تخلیقی (creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ عام سوچ سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اس کا کردار دوسرے لوگوں کے کردار سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتے ہوئے ایک آسمانی انسان بن جاتا ہے۔ وہ ظواہر میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔

دوسرے لوگ اگر اپنی ذات کو چاہنے والے ہوتے ہیں تو وہ خیر کو چاہنے والا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ اگر استحصال کرنے والے ہوتے ہیں تو وہ نفع پہنچانے والا ہوتا ہے۔ دوسرے لوگوں کے مزاج میں اگر سرکشی ہوتی ہے تو اس کے مزاج میں تواضع ہوتی ہے۔ دوسرے لوگوں کی خصوصیت اگر جنگ پسند ہوتی ہے تو اس کی خصوصیت امن پسند ۔ دوسرے افراد اگر لوگوں کو مار کر خوش ہوتے ہیں تو وہ لوگوں کو زندگی دے کر خوشی حاصل کرتا ہے۔ دوسروں کے پاس اگر لوگوں کے لئے نفرت کا تحفہ ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف محبت کا تحفہ، خواہ دوسرے لوگ اس سے نفرت کا معاملہ کیوں نہ کر رہے ہوں۔

صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے اجتماعی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ امام البخاری نے یہ حدیث چار ابواب کے تحت نقل کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:

ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملوں بين امرين إلا أخذ أيسرهما میں سے ایک کو لینا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۶/ ) سے آسان کو لیتے تھے۔

یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page