Al-Risala · November 1995 · page 14

اسلام مذہب امن

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴

کے درمیان آپ کو جو معاملات پیش آتے تھے، ان میں آپ ہمیشہ آسان پہلو کا انتخاب فرماتے تھے۔ جب ایک طریقہ امن کا ہو اور دوسرا طریقہ ٹکراؤ کا، ایک طرف نزاع ہو اور دوسری طرف موافقت ہو، ایک جنگ کار استہ ہو اور دوسرا صلح کا راستہ ہو، تو ان تمام صورتوں میں آپ اسی صورت کو اختیار کرتے تھے جو نسبتاً سہل اور آسان ہو۔ غور کیا جائے تو یہ اصول آپ کی پوری زندگی پر چھایا ہوا نظر آئے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ایک معلوم اور مشہور سنت ہے۔ مگر عام طور پر اس کا انطباق صرف چھوٹے چھوٹے امور میں کیا جاتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھارہے ہوتے اور پیچھے سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آجاتی جس کو اس کی ماں مسجد میں لائی تھی تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے۔ ایسی حالت میں آپ لمبی سورہ پڑھنے کے بجائے چھوٹی سورہ پڑھ کر نماز کو جلد ختم کر دیتے تاکہ بچہ کی ماں کو پریشانی نہ ہو۔ مگر زیادہ بڑے بڑے امور میں اس سنت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور نہ بڑے بڑے امور میں اس کو منطبق کیا جاتا ہے۔

مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ کعبہ کی تطہیر سے اپنی مہم کا آغاز کرتے تو یہ آپ کے لئے مشکل انتخاب ہوتا۔ اس لئے آپ نے دلوں کی تطہیر سے اپنے کام کا آغاز فرمایا۔ چنانچہ قرآن میں پہلی آیت یہ اتاری گئی کہ اقرأ باسم ربک الذی خلق گویا کہ طهر الكعبة من الاصنام کے بجائے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ طهر القلوب من الاصنام ۔

مکی زندگی کے آخر میں آپ کے مخالفین آپ کو قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اس وقت ایک صورت یہ تھی کہ آپ دفاعی ذہن کے تحت تمام مسلمانوں کو متحد کرکے جنگ کا طریقہ اختیار کرتے۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ مقابلہ کے بجائے ترک مقام کو اختیار کرنا تھا۔ حدیبیہ کے واقعہ میں آپ کے لئے جنگ اور واپسی میں انتخاب کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ آپ نے یہاں بھی جنگ کے طریقہ کو چھوڑا اور میدان سے واپسی کے طریقہ کو لے لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1995 All issues

Printed page